خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 267

۲۶۷ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کرتا ہوں۔اور وہی ان تجاویز پر بھی غور کرے گی جو میں نے پیش کی ہیں اور نظارت علیا والی پر بھی۔ہاں اگر وہ چاہے تو اپنے میں سے چھوٹی کمیٹی اور بنا سکتی ہے جو اپنی رپورٹ اُسی کے سامنے پیش کرے۔اور یہ اپنی رپورٹ کے ساتھ اسے شامل کر کے اصل اجلاس میں پیش کر دے۔اور چونکہ یہ سب کمیٹی اہم ہوگی اور ممکن ہے اسے اپنے میں سے بعض اور کمیٹیاں بھی مقرر کرنی پڑیں اس لئے اس کے ممبروں کی تعداد چوالیس مقرر کرتا ہوں۔اور دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مناسب آدمیوں کے نام اس سب کمیٹی کی ممبری کے لئے پیش کریں۔“ دوسرا دن غیر احمدی عورتوں سے شادی کا مسئلہ مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۱۶ را پریل ۱۹۳۸ء کو پہلے اجلاس میں نظارت امور عامہ کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ احمدی لڑکیوں کے لئے جماعت میں رشتوں کی کمی کے پیش نظر نظارت هذا کی طرف سے مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ احمدی احباب کے لئے غیر احمدی لڑکیوں اور عورتوں کا رشتہ لینے کے بارہ میں ممانعت اور استثنائی حالات میں مرکز سلسلہ سے اجازت لینے کی پابندی کو مزید تین سال کے لئے جاری رکھا جائے۔یہ تجویز منظور ہو گئی تھی اور اب تک اسی کے مطابق عمل ہو رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آئندہ کیا کرنا چاہیے ؟ چند احباب نے اس بارہ میں اپنی آراء پیش کیں اس کے بعد حضور نے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - د بعض دوستوں کی تقریروں سے میرے دل پر یہ اثر ہوا ہے کہ ان کے دل میں یہ سوال خلش پیدا کر رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت دی تھی اور عہد اول کے مسلمانوں نے اس اجازت سے فائدہ اُٹھانے میں کوئی روک پیدا نہیں کی تو کیا وجہ ہے کہ غیر احمدیوں کی لڑکیاں لینے کی جو اجازت ہمیں حاصل ہے با وجود اس کے کہ وہ ہمارے بہت زیادہ قریب ہیں ، ہمارا ان کا ایک قرآن اور ایک رسول ہے، اس میں کیوں روک پیدا کی جائے۔پس اجازت کی قید کو دور کر کے عام اجازت دے