خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 264

۲۶۴ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اور یا صبر کے ماتحت اسے قبول کر لیا ہے۔کارکنوں کو جو گزارے دیئے جاتے ہیں ان میں سے دو آنے ، تین آنے اور چار آنے فی روپیہ کمی کر دی گئی ہے۔یہ وضعات چندوں کے علاوہ ہیں اور وصایا اور تحریک جدید کے چندے اس سے باہر ہیں اور ان سب کو ملا کر گویا کم سے کم کٹوتی چار آنے فی روپیہ ہے۔یعنی پچیس فی صدی۔اور زیادہ سے زیادہ چھ آنے اور سات آنے تک جا پہنچتی ہے۔اگر یہ بجٹ منظور ہو جائے تو جماعت کو اس امر پرغور کرنا چاہئے کہ اس کے مقابلہ میں باہر والوں کو کیا قربانی کرنی چاہئے۔کیا ان کے لئے اُس ہندو کی مثال پر عمل کر لینا ہی کافی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ سردی کے موسم میں صبح صبح دریا پر نہانے کے لئے گیا اور بڑی کوشش کے باوجود اسے دریا میں گودنے کی جرات نہ ہوئی۔آخر سوچ سوچ کر اس نے دریا میں ایک پتھر پھینکا اور کہا کہ ” تو راشنان سوموراشنان۔“ یعنی تیرا نہانا میرا نہانا ہے۔اور یہ کہہ کر واپس لوٹ آیا۔رستہ میں اُسے ایک اور ہندو ملا جو دریا پر نہانے جا رہا تھا اور پوچھا کہ کیا نہا آئے ہو؟ اُس نے کہا کہ میں تو اِس طرح کر آیا ہوں۔اس پر وہ کہنے لگا کہ اچھا پھر ” تو را شنان سومور اشنان“ اور یہ کہہ کر وہ بھی گھر کو لوٹ گیا۔تو کیا باہر کے دوست بھی یہی کافی سمجھتے ہیں کہ قادیان والوں نے جو قربانی کی ہے اُسے اپنی طرف سے سمجھ کر خاموش ہو جائیں یا عملی زندگی سے اس بات کا ثبوت پیش کریں گے کہ وہ بھی حقیقی قربانی کر کے سلسلہ کا بوجھ اسی طرح اُٹھائیں گے جس طرح قادیان والوں پر لادا گیا ہے۔پس ایک بات یہ بھی ہے جو زیر غور آنی چاہئے یعنی یہ کہ قربانی یک طرفہ ہوگی یا دو طرفہ۔دوسرے بعض پیش کردہ تجاویز کے خلاف بھی مجھے بعض چٹھیاں موصول ہوئی ہیں جو میں نے پڑھ لی ہیں اور بعض دفتر میں بھی بھجوا دی ہیں ، مشورہ کرتے وقت اُن کو بھی پڑھ لیا جائے۔خلیفہ وقت کی تجویز کی پوزیشن میں یہ امر بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ محض اس خیال سے کہ کوئی تجویز میری طرف سے ہے اُس پرغور نہ کرنا صحیح نہیں۔اور یہ سمجھ لینا کہ جو تجویز خلیفہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے اس میں ضرور برکت ہوگی اس لئے ہمیں اس پر غور کرنے کی کیا ضرورت ہے، درست نہیں۔دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ آخری فیصلہ پھر بھی میرے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دیا ہے لیکن