خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 263

۲۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم بعض دوسری تحریکات بھی ہیں۔تحریک جدید ہے جو سات سال تک جاری رہنی ہے۔پھر ایک اور فنڈ جوبلی فنڈ ہے جو اگرچہ سلسلہ کی طرف سے نہیں مگر بعض دوستوں نے اپنے ارادہ اور خواہش سے گومیری اجازت سے قائم کیا ہے اس کے لئے بھی دوست وعدے کر رہے ہیں۔اور یہ ایک ایسا بوجھ ہے کہ دو تین سال آئندہ میں سوائے پختہ ارادہ اور عزم قربانی کے اُٹھایا نہیں جاسکتا۔پختہ عزم کی ضرورت اس کے لئے ایک ایسے عزم کی ضرورت ہے جو صورت دیکھتے ہی نظر آ جائے۔اس میں شک نہیں کہ ہمارا عزم دوسروں سے بہت زیادہ ہے مگر اتنا نہیں جو صحابہ کرام کے اندر تھا۔پس ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے نفس کا محاسبہ کر کے اپنے اندر وہ عزم پیدا کرے اور پختہ عہد کرے کہ اب جو ہو سو ہو زندگی کے یہ تین سال خدا تعالیٰ کے لئے بسر کرے گا۔اور اگر کوئی ایسا کرے تو کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ساری عمر ہی اپنے لئے بسر کرنے کی توفیق عطا کر دے۔ہمارا خدا بعض دفعہ بالکل معمولی سی بات کو نواز دیتا ہے۔تین سال کا عرصہ کوئی بڑا عرصہ نہیں۔گنٹھیا کے مریض سات سات سال تک اس مصیبت میں زندگی گزارتے ہیں کہ چار پائی پر سے نہیں اُٹھ سکتے۔اگر تم یہ تین سال خدا تعالیٰ کے لئے گزار دو تو یہ کوئی بڑی بات نہیں، لیکن نتائج اس کے بڑے ہوں گے اور ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص کی اللہ تعالیٰ آئندہ زندگی کے باقی ہیں تھیں ، ساٹھ یا سو سال جتنی بھی عمر باقی ہو اپنی رضا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے ابدی زندگی حاصل ہو جائے۔کام اگر چہ تھوڑا ہے مگر نتیجہ بہت بڑا اور ثمرات نہایت اہم ہیں۔پس اوّل تو میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور دوسرے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انجمن کے جو کام ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض تجاویز پیش ہوں گی اُن پر غور کرنے کے لئے ابھی سب کمیٹیاں بنیں گی۔ان میں سے بعض ایسی ہیں کہ جن پر عمل کرنے کے بعد اس سال کا بجٹ بنایا گیا ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے کارکنوں نے بشاشت کے ساتھ ان قربانیوں کو قبول کیا ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ بعض نے اس پر بُرا منایا ہے، اس کی بھی مجھے اطلاع ہے مگر بیشتر حصہ ایسا ہے کہ جس نے رضا کے ماتحت