خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 262

۲۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم ہیں کہا کرتے تھے کہ وہ کون سے فتنے آنے والے ہیں جن سے یہ جماعت کو ڈرا رہے ہیں۔کوئی ایسے فتنے آنے والے نہیں ہیں، یہ محض چندہ وصول کرنے کے لئے کہا جاتا ہے مگر آج یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ میں جو کچھ کہتا تھا وہ درست تھا۔اب میں پھر جماعت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سے رفتن آنے والے ہیں۔ایسے ایسے فتن ہمیں در پیش ہیں جن کو ابھی سمجھنے کی بھی تم قابلیت نہیں رکھتے مگر وہ میری آنکھوں کے سامنے ہیں کیونکہ جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی باگ دیتا ہے اُس کے ذہن میں اُن باتوں کو بھی داخل کر دیتا ہے جن کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔میں اپنی آنکھوں کے سامنے ایسے خطرناک فتن دیکھتا ہوں کہ اگر جماعت جلد بیدار نہ ہوئی اور ایسی قربانیوں کے لئے آمادہ نہ ہوئی کہ موت وحیات اس کی نظر میں یکساں ہو تو اس کے لئے نہایت تاریک ایام اور خطرناک گھڑیاں آنے والی ہیں لیکن اگر آپ لوگ اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیں، اسلام کی تعلیم پر پوری طرح عمل پیرا ہوں جیسا کہ جلسہ سالانہ پر آپ لوگوں نے عہد کیا تھا اور انفرادی قربانیوں کے لئے ہر وقت آمادہ رہیں اور ان ذمہ داریوں کو سمجھیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر ڈالی گئی ہیں اور قطع نظر اس کے کہ آپ جیتے ہیں یا مرتے ہیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگ جائیں تو دُنیا کی کوئی طاقت بھی آپ لوگوں پر غالب نہ آسکے گی۔اس وقت آپ سے مقابلہ کرنے والے آپ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے مقابلہ کرنے والے ہوں گے اور خدا تعالیٰ خود ان کو تباہ کر دے گا۔اندرونی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے بھی اس وقت بعض مشکلات ہمارے سامنے ہیں جیسا کہ آپ لوگوں کو ایجنڈا سے معلوم ہو چکا ہوگا اس لئے ان باتوں پر بھی غور کرنا اور ان مشکلات کو دور کرنے کی تجاویز سوچنا آپ کا فرض ہے۔یہ چند سال مالی قربانیوں کے لحاظ سے بھی سلسلہ کے لئے بہت نازک ہیں۔ایک طرف تو بجٹ پورا نہیں ہورہا اور دوسری طرف قرضہ اب قریباً چار لاکھ ہو چکا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر ہم اپنے تمام کاموں کو بند کر دیں تو بھی دو سال میں قرضہ اُتار سکیں گے اور کاموں کو جاری رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچت جو انسان اپنے اخراجات میں کر سکتا ہے وہ دس فی صدی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ بیس سال میں بڑی جدو جہد کے بعد ہم اس قرضہ کو اُتار سکیں گے۔مگر اس کے ساتھ