خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 260
خطابات شوری جلد دوم ۲۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہے اس لئے وہ اپنی قوم کی مخالفت کی جرات نہیں کرتا اور بات ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔غرض ہماری حکومت اب تک خالص مومنوں پر ہے، کمزوروں کو اپنے ساتھ چلانے کے لئے سامان میسر نہیں حالانکہ یہ سامان ہندوستان کی ادنیٰ اقوام کو میسر ہے۔جماعت کے لئے نازک وقت غرض ہم اس وقت ایسے مقام پر ہیں جو قوموں کے لئے نہایت خطرناک ہوتا ہے۔قوموں پر ایک وقت ایسا آیا کرتا ہے جب وہ لوگوں کی نظر کے نیچے آجاتی ہیں مگر ابھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی طاقت اُن میں نہیں ہوتی۔ایک زمانہ تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُن کو اتنا کمزور سمجھتے ہیں کہ ان کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے اور خیال کرتے ہیں کہ یہ خود بخو دمر جائیں گے، مخالفتیں اُس وقت بھی ہوتی ہیں مگر انفرادی طور پر ، اُس وقت قو میں مقابل پر کھڑی نہیں ہوتیں۔وہ اس کے جماعتی نظام کو بالکل حقیر سمجھتی ہیں اور اس کے جوشِ ترقی اور ولولوں کو دیکھ کر صرف ہنس چھوڑتی ہیں۔لیکن ایک زمانہ پھر ایسا آتا ہے کہ قومیں اُس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں اور حکومتوں کے نظام اُن کے مقابل پر آتے ہیں لیکن اُس قوم میں ابھی اتنی طاقت پیدا نہیں ہو چکی ہوتی کہ قوموں اور حکومتوں کا مقابلہ کر سکے۔اُس وقت اسکی حالت فٹ بال کی ہوتی ہے جو دو ٹیموں کے درمیان ہوتا ہے۔اُس وقت کوئی قوم اُس کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور ہر قوم اسے دھتکارتی ہے۔کوئی اُس کے ساتھ اتحاد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا بلکہ جہاں تک ہو سکے اس کے مارنے پر آمادہ ہوتا ہے، لیکن اُس قوم میں ابھی جواب کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ وقت قوموں کے لئے نہایت خطرناک ہوتا ہے یہی وقت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں مدنی زندگی کہلاتا ہے۔مکہ میں بے شک مخالفت تھی مگر وہ انفردی مخالفت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں رہتے تھے، کوئی کوئی شخص آپ کی مخالفت کرتا تھا مگر جب آپ کی تائید میں کوئی کھڑا ہو جا تا مثلاً آپ کے چچا آپ کی طرف سے کھڑے ہو جاتے تو مخالف بھی اپنی مخالفت ترک کر دیتے تھے اور سمجھ لیتے تھے کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ بگاڑ پیدا کرتے پھریں لیکن جب قوم کی قوم مخالفت پر کھڑی ہو جائے تو افراد بھی ساتھ دینا چھوڑ دیتے ہیں۔مدنی زندگی در اصل ایسی ہی تھی اور یہ زمانہ بہت ہی خطرناک تھا۔ہمارے مفسرین نے غلطی کھائی