خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 256

خطابات شوری جلد دوم ۲۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہمارے ہاتھ اور ہماری زبانیں اس کے منشاء کو پورا کرنے والی ہوں ، ہم وہی کہیں اور کریں جو اُس کی مرضی ہو۔یہ ذریعہ ہے خدا تعالیٰ سے پوچھنے کا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بندہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ کام کرتا ہے، اُس کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے، آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سُنتا اور نوافل دراصل دعا ہی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے کاموں میں خصوصیت سے دعائیں کرو تا ان کاموں میں جو دراصل اس کے ہیں اور ہم کو جو محض خادم اور مامور کی حیثیت رکھتے ہیں وہ اپنی مرضی بتائے اور ہمارے فیصلے اس کے فیصلوں کے ماتحت ہوں اور ہمیں اس کے ثواب کا مستحق بنانے والے ہوں۔افتتاحی تقریر تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - ہے احمدیت کی ترقیات جماعت احمدیہ کے قیام کو آج قریباً پچاس سال گزرنے کو آئے ہیں یعنی پچاسواں سال اس کی زندگی کا اب شروع ہے۔اس زندگی میں سے جو اس کے بچپنے کے سال تھے اُس وقت تو کوئی کوئی آنکھ تھی جو اسے دیکھ کر کہا کرتی تھی کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔مگر عام طور پر لوگوں کی نگاہیں یہی سمجھا کرتی تھیں کہ یہ روئیدگی جانوروں کے پاؤں تلے روندی جائے گی اور کل کوئی اسے یاد بھی نہیں رکھے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اسے بڑھایا اور تقویت دی اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اسے پھیلاتے ہوئے بیرونی ممالک میں لے گیا اور آج دُنیا کے مختلف گوشوں میں اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور کوئی براعظم ایسا نہیں جہاں احمد یہ جماعت موجود نہ ہو اور بعض ممالک میں تو ہزار ہا کی تعداد میں اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے پائے جاتے ہیں۔چنانچہ پچھلے سال ہی گولڈ کوسٹ کے سالانہ جلسہ میں تین ہزار ڈیلیکیٹ شامل ہوئے۔ایک ایسے علاقہ میں جہاں تعلیم کم ہے تین ہزار ڈیلگیٹیوں کا شامل ہونا بتاتا ہے کہ جماعت کی