خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 251
خطابات شوری جلد دوم ۲۵۱ مشاورت ۱۹۳۷ء حدیثوں میں آتا ہے کہ اگر صفیں ٹیڑھی ہوں گی تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے جب بعض نے اُن میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات نہ مانی تو ان کی صف ٹیڑھی ہو گئی اور اُن کی صف ٹیڑھی ہونے کے نتیجہ میں دل بھی آگے پیچھے کر دیئے گئے اور اُن کا امن اور اتحاد تباہ ہو گیا۔والله لا يَهْدِى الْقَوْمَ الفيسقين اور اللہ تعالی عہد شکنوں کی قوم کو کبھی کامیاب نہیں کیا کرتا۔فَسَقَ کے معنے ہوتے ہیں خَرَجَ عَنِ الطَّاعَۃ اور فاسق اُس کو کہتے ہیں جو اپنے عہد کی حدود سے نکل جائے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عہد شکنوں کی قوم کو ہم کبھی کامیاب نہیں کیا کرتے۔وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جو وعدہ کرتی اور پھر ہر حال میں خواہ عسر ہو یا ئیسر اُسے پورا کرتی ہے۔صحابہ میں یہی بات تھی اور اسی وجہ سے دُنیا اُن پر ہاتھ اُٹھانے سے ڈرتی تھی۔آج ہم پر بھی لوگ ہاتھ اُٹھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ رُعب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا ہوا ہے وہ اُن کے سامنے آ جاتا ہے مگر بہر حال ہمیں سمجھنا چاہئے کہ جب تک ہم اپنے وعدوں پر قائم رہیں گے تبھی تک اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت بھی نازل ہو گی اور اگر ہم نے اپنے عہدوں سے انحراف کر لیا تو خدا تعالیٰ کی نصرت بھی جاتی رہے گی۔پس آج میں پھر تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وعدے ہی نہ کیا کرو اور اگر اپنی خوشی سے وعدے کر و تو پھر چاہے موت آ جائے ، چاہے ذلت برداشت کرنی پڑے اُن وعدوں کو پورا کرو۔اور اگر دیکھو کہ وعدے پورے کرنے کی تم میں استطاعت نہیں تو تم میرے پاس آجاؤ، میں تمہیں ہر وقت معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اللہ تعالیٰ کے جو مستقل احکام ہیں اُن میں تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔مثلاً نماز ہے، اسے میں معاف نہیں کر سکتا۔روزے ہیں وہ میں معاف نہیں کر سکتا۔زکوۃ ہے وہ میں معاف نہیں کر سکتا۔لیکن جو وقتی احکام ہوں اُن میں میں تبدیلی کر سکتا ہوں۔پس کیوں جماعت کے لوگ جرات کر کے میرے پاس نہیں آتے؟ اور اگر ان میں استطاعت نہیں تو وہ مجھ سے معافی نہیں لے لیتے اور یا پھر ہمت کر کے اُن وعدوں کو پورا نہیں کر دیتے ؟ میں نہیں سمجھ سکتا اِن دو باتوں کے علاوہ کوئی اور بھی راہ ہو۔یا تو وہ وعدے جو تم نے