خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 252

خطابات شوری جلد دوم ۲۵۲ مشاورت ۱۹۳۷ء اپنی خوشی سے کئے ہیں پورے کرو اور اگر پورے نہیں کر سکتے تو میری طرف سے آزادی ہے تم میرے پاس آؤ اور اپنا معاملہ پیش کرو میں ہر وقت اس پر ہمدردانہ طور پر غور کرنے کے لئے تیار ہوں۔اب تک ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی شخص نے چندے کی معافی کی مجھ سے درخواست کی ہو اور میں نے اُسے منظور نہ کیا ہو۔پس کیوں آپ لوگ ان دونوں راہوں میں سے ایک راہ اختیار نہیں کرتے ، اور خواہ مخواہ گنہگار بنتے ہیں؟ اب آپ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور وعدے کرتے ہیں کہ ہم سادہ زندگی اختیار کریں گے مگر پھر لوگوں میں یہ کہتے پھرتے ہیں کہ خلیفہ اُسیح سات سات کھانے کھاتے ہیں۔ایسے جھوٹ کی بھلا کیا ضرورت ہے۔پس آپ لوگوں نے تحریک جدید کے متعلق جو وعدے کئے ہیں اُن کے متعلق وہ طریق عمل اختیار کریں جو میں نے بتایا ہے۔یا تو اپنے وعدوں کو پورا کریں اور یا پھر مجھ سے معافی لے لیں۔جو مستقل شرعی احکام ہیں اُن کے متعلق یقین کر لیں کہ میں اُن میں کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن جو مطالبہ میں نے کیا ہے وہ بدل بھی سکتا ہے اور اس کی تبدیلی اور تغیر میرے اختیار میں ہے۔اس کے بعد میں دوبارہ احباب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے دلوں میں یہ عہد کر کے جائیں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں گے اور خواہ انہیں کس قدر تکلیف اُٹھانی پڑے وہ تکلیف اُٹھا کر بھی اپنے عہدوں کو نبھائیں گے۔چونکہ دوستوں نے اب جانا ہے اور اڑھائی بجنے والے ہیں اس لئے میں بقیہ رکوع کی تشریح چھوڑتا ہوں اور دعا کر کے اس جلسہ کو برخاست کرتا ہوں۔“ (مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء) ل النمل : ۳۵ تذکرہ صفحہ ۵۳۹۔ایڈیشن چهارم الفاتحة : ۲۵ آل عمران : ۵۶ البقرة : ۱۵۵ النور : ٣٦ کے تذکرہ صفحہ ۳۰۵۔ایڈیشن چہارم