خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 250

خطابات شوری جلد دوم ۲۵۰ مشاورت ۱۹۳۷ء پورا نہیں کرتے۔اب تم خود ہی بتاؤ کہ تم مجھے کیوں تکلیف دیتے اور میری جاری کردہ سکیموں کو تباہ کرتے ہو۔لم تُؤذونني۔تم کیوں مجھے تکلیف دیتے ہو جبکہ تمہارے اختیار میں تھا کہ تم میری جاری کردہ تحریک میں شامل ہوتے یا نہ ہوتے۔پھر جب کہ تم نے اپنی خوشی سے اس میں شامل ہونا پسند کیا وقد تَعْلَمُونَ انّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ اور تمہیں یہ بھی پتہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا رسول ہوں تو پھر اپنے اقرار کو کیوں پورا نہیں کرتے۔گویا تم نے کسی بُرے کام کے متعلق وعدہ نہیں کیا بلکہ اس انسان کے ہاتھ پر وعدہ کیا ہے جس کی رسالت پر تمہارا یقین ہے۔ان حالات میں تمہارا فرض تھا کہ تم اس عہد کو پورا کرتے مگر تم نے اپنے عہد کو پورا نہ کر کے مجھے بہت دُکھ دیا ہے۔وعدہ وہ ہے جو نیکی پر مبنی ہو مینا اس آیت سے یہ بات ضمناً اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہی اقرار انسان پورا کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو نیکی کا اقرار ہو اور جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہو۔بدی کے متعلق اقرار کوئی اقرار نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ایک شخص کو نصیحت کی کہ فلاں عورت سے تم نے ناجائز تعلق رکھا ہوا ہے یہ سخت گناہ کی بات ہے اسے چھوڑ دو۔تو وہ کہنے لگا مولوی صاحب! وہ عورت ہو کر اپنے اقرار پر قائم ہے تو کیا میں مرد ہو کر بے ایمان ہو جاؤں اور اس کو چھوڑ دوں؟ گویا اس کے نزدیک کسی غیر عورت کو اپنے گھر میں ڈال لینا اور آپس کے اقرار کو پورا کرنا یہ ایمان تھا حالانکہ شرارت کا وعدہ کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔وعدہ وہ ہے جو نیکی پر مبنی ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اسی امر کی طرف اپنی قوم کو توجہ دلاتے اور فرماتے ہیں تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے غلطی سے وعدہ کر دیا تھا اب ہمیں سمجھ آیا کہ یہ وعدہ نا جائز تھا کیونکہ اگر کسی غیر سے وعدہ ہوتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ ہمیں بعد میں غور کر کے معلوم ہوا کہ ہمارا وعدہ درست نہیں لیکن تم تو میرے متعلق یہ یقین رکھتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ میں نے تم سے کسی بُرے کام کے متعلق وعدہ لیا۔پس تم یہ عذر نہیں کر سکتے۔کیونکہ اگر یہ عذر کرو تو یہ تمہارے دین، ایمان، انصاف اور دیانت کے بالکل خلاف ہو گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ نصیحت جب ان کی قوم نے نہ سنی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللهُ قُلُوبَهُمْ۔یہ وہی مضمون ہے جو