خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 249
خطابات شوری جلد دوم ۲۴۹ مشاورت ۱۹۳۷ء اس کے بعد فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ مومن کا کام دوسروں کو مضبوط بنانا يُقَاتِلُونَ في سَبِيلِهِ صَفًّا عَانَّهُمْ بُنْيَانَ مرْصُوص۔اللہ تعالیٰ یقیناً اُن لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں یوں جنگ کرتے ہیں گویا وہ ایسی دیواریں ہیں جن کے رخنے سیسہ ڈال ڈال کر پُر کئے گئے ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مومن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ متحد ہو کر رہے۔چنانچہ دیکھ لو نمازوں کے وقت بھی صفیں سیدھی رکھی جاتی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم صفیں ٹیڑھی کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے " اس کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح باطنی رخنے خرابی کا موجب ہوتے ہیں، اسی طرح ظاہری رخنے بھی خرابی کا موجب ہوتے ہیں۔گویا نماز کی ظاہری صف کے ٹیڑھے ہونے کو بھی اسلام پسند نہیں فرماتا کجا یہ کہ دلوں میں رخنے ہوں اور اتحاد کی بجائے بعض اور عِنا د بھرا ہوا ہو۔پھر دیوار کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ مومن کا کام یہ ہے کہ نہ صرف دینی امور میں وہ خود مضبوط ہو بلکہ دوسروں کو بھی مضبوط رکھے۔جیسے اینٹیں جب دیوار پر لگائی جاتی ہیں اور اُن پر سیمنٹ کا پلستر کر دیا جاتا ہے تو وہ مل کر ایک دوسری کو مضبوط بنا دیتی ہیں۔پس مومن کا کام صرف یہی نہیں کہ خود مضبوط بنے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ دوسروں کو بھی مضبوط بنائے۔واذ قال موسى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَني وَقَدْ تَعْلَمُونَ انّي رَسُولُ الله إليكم جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم مجھے کیوں دکھ دیتے ہو۔یہاں خدا تعالیٰ نے اگر چہ یہ نہیں بتایا کہ اُنہوں نے کیا دُکھ دیا لیکن سیاق کلام سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس کا اشارہ اسی امر کی طرف ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جو باتیں بہت کرتے تھے مگر کام نہیں کرتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اُس کی قوم کے بعض افراد نے ایسی حرکات کیں جن سے اُسے تکلیف ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہنا پڑا کہ جب میں کہتا ہوں کہ میری فلاں تحریک میں شامل ہونا تمہاری اپنی مرضی پر منحصر ہے تو تم پہلے تو کہہ دیتے ہو کہ ہم بھی اس میں شامل ہوں گے لیکن درمیان میں آکر رخنہ ڈال دیتے ہو اور اپنے وعدے کو