خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 248

خطابات شوری جلد دوم ۲۴۸ مشاورت ۱۹۳۷ء شروع کر دی۔آخر اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔جب وہ گیارہ سال کا ہوا اور عقل اُس کی پختہ ہونی شروع ہوئی تو اس نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ برہما کی کیوں پرستش نہیں کرتے اور اُس کے احسان کے بدلہ میں بیوفائی کیوں دکھاتے ہیں؟ باپ نے کہا اب برہما نے ہمارا کیا کر لینا ہے، اب تو ہم شوجی کی پوجا کریں گے تا وہ تم کو زندہ رکھیں۔بیٹے نے کہا میں تو برہما کی پرستش کروں گا اُسی نے مجھے پیدا کیا ہے اور اُسی کے احسان کا میں شکر ادا کروں گا۔اس پر باپ بیٹے میں اختلاف ہو گیا اور یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ باپ نے غصہ میں آکر دعا کی کہ شوجی میرے بیٹے کو مارڈالو، یہ بڑا نا خلف اور نالائق ہے۔چنانچہ شوجی نے اُسے مار دیا۔برہما کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ کہنے لگے ہیں! میری پرستش کرنے کی وجہ سے یہ لڑکا مارا گیا ہے میں اسے زندہ کروں گا چنانچہ اُنہوں نے اُسے زندہ کر دیا۔شوجی نے اُسے پھر مار دیا۔برہما کو پھر جوش آیا اور اُنہوں نے اُسے پھر زندہ کر دیا۔غرض ایک لمبے عرصہ تک بر ہما زندہ کرتے اور شوجی مار دیتے۔شوجی مارتے اور برہما زندہ کرتے۔یہ ہے تو قصہ اور قصہ کے لحاظ سے لغو بھی مگر سبق سے خالی نہیں۔اس میں یہ سبق ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے لئے کوئی شخص اپنی جان دیتا ہے تو کون ہے جو اُسے مار سکے۔وہی تو پیدا کرنے والا ہے اور جب وہی پیدا کرنے والا ہے تو اُس پر موت آ کس طرح سکتی ہے۔پس اس قصہ میں کم از کم یہ سبق ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے لئے مرتا ہے تو وہ مرتا نہیں۔دیکھ لو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربان کیا مگر کیا وہ قربانی رائیگاں گئی اور کیا حضرت اسماعیل علیہ السلام ہمیشہ کے لئے زندہ نہ ہو گئے ؟ پس اگر کوئی اپنی مرضی سے کوئی چندہ لکھا تا اور کسی قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ اپنے عہد کو نبھائے خواہ کس قدر ہی تکلیف ہو اور یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ کے لئے موت قبول کر کے انسان موت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ موت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اور جس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی نہ ہو وہ وعدہ کرے ہی نہ کیونکہ كَبُرَ مَقْتًا عند الله أن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم اس بات سے سخت ناراض ہوتے ہیں کہ تم خوشی سے ایک عہد کرو اور پھر عملی رنگ میں اُسے پورا نہ کرو۔