خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 247

خطابات شوری جلد دوم ۲۴۷ مشاورت ۱۹۳۷ء دشمنوں نے دوبارہ حملہ کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔اُنہوں نے جب یہ سُنا تو کہنے لگے عمر! تمہاری عقل بھی خوب ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو پھر ہمارے اِس دُنیا میں رہنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ کہہ کر اُنہوں نے کھجور کی طرف دیکھا اور کہا میرے اور جنت میں کیا چیز حائل ہے صرف یہ کھجور؟ یہ کہتے ہوئے اُنہوں نے کھجور کو زمین پر پھینک دیا اور کہا عمرا رو کیوں رہے ہو؟ جہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم موجود ہیں وہاں ہم بھی جائیں گے۔چنانچہ تلوار لے کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر جوش سے لڑے کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر شہید ہو گئے۔بعد میں صحابہ نے اُن کی نعش کو دیکھا تو اُن کے جسم پر ستر زخم تھے۔تو صحابہ یہ مثال پیش کیا کرتے تھے مِنْهُم مِّن قَضَى نَحْبَه کی کہ بعضوں نے اپنے فرائض کو جو ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد ہوتے تھے ادا کر دیا اور بعض یقین اور صدق سے بیٹھے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اُن کا وجود بھی اسلام کی خدمت کے لئے کام آئے گا یہ گواہی ہے جو صحابہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے دی۔اس کو اپنے سامنے رکھو اور پھر غور کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ آن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ - خدا تعالیٰ کے حضور یہ سخت ناپسندیدگی کی بات ہے کہ تم کہتے ہو مگر کرتے نہیں۔فرماتا ہے بعض چیزیں جبری ہوتی ہیں اور بعض طوعی۔جبری تو بہر حال پوری کرنی پڑیں گی اور جو طوعی ہوں اُن کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ یا تو وہ وعدہ ہی نہ کیا کرو اور اگر وعدہ کرو تو پھر اُسے پورا کرو، چاہے تمہیں کس قدرقربانی کرنی پڑے۔ہندوؤں میں ایک قصہ مشہور ہے وہ ہے تو قصہ مگر ہم اس سے بہت کچھ سبق حاصل کر سکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ کوئی راجہ تھا جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی۔ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ تین خدا ہیں۔برہما ، وشنو اور شوجی۔برہما پیدا کرتا ہے، وشنو رزق دیتا ہے اور شو جی مارتا ہے۔اس تقسیم کی وجہ سے ہندوؤں میں برہما کی پوجا نہیں کی جاتی۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں پیدا تو ہم ہو ہی گئے ہیں اب ہمیں روٹی کی ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ زندہ رہیں۔پس وہ وشنو اور شوجی کی پوجا کرتے ہیں، برہما کی نہیں کرتے لیکن اُس را جا کے ہاں چونکہ اولاد نہیں ہوتی تھی اور اولاد دینا برہما کا کام تھا اس لئے اُس نے برہما کی پرستش