خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 11

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ہر بات کو پس پشت ڈالے ہوئے ہے۔خود مسلمان کہلانے والے اسلامی احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں اور غیر مذاہب کے لوگ اسلام پر ہنسی اُڑا رہے ہیں۔جہاں چلے جاؤ یہی نظر آئے گا کہ اسلام کی خاک اُڑائی جا رہی ہے۔ان حالات میں یہ قیاس کرنا اور یہ باور کرنا کہ اسلامی احکام دُنیا میں قائم ہو جائیں گے، انسانی لحاظ سے بالکل ناممکن اور محال ہے۔غیروں میں کہاں قائم ہو سکتے ہیں جبکہ ابھی تک اپنوں میں بھی قائم نہیں ہوئے۔وہ ہاتھ جو اسلام کے لئے چندہ دیتے ہیں اُس جائداد سے جس میں سے اُنہوں نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کا حصہ نہیں دیا، اُن میں اتنی طاقت کہاں آ سکتی ہے کہ شیطان کا سرمچل سکیں۔ایسے کانپتے ہوئے ضعیف ہاتھوں نے کیا کرنا ہے اور کیا چوٹ لگانی ہے جبکہ وہ لرز رہے ہیں اور ان ہاتھوں والے یہ خیال کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے بہنوں کو جائداد میں سے حصہ دیا تو ہم تباہ ہو جائیں گے مگر کیا وہ خاندان محفوظ رہ گئے جنھوں نے پہلے ایسا کیا؟ عزت خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے ان خاندانوں کا کیا ذکر، کیا اسلام کے خلاف چلنے والی سلطنتیں قائم رہ گئیں؟ سب سے بڑی عظمت رکھنے والے روسی حکمران تھے مگر آج وہ کہاں ہیں؟ وہ شاہی محلوں اور بادشاہی درباروں میں نظر نہیں آئیں گے ، دنیاوی جاہ وجلال رکھنے والوں کی مجالس میں نظر نہ آئیں گے، سیاسی جماعتوں میں نظر نہ آئیں گے بلکہ ہوٹلوں میں برتن مانجتے ہوئے، شراب خانوں میں شراب پلاتے ہوئے اور مجتبہ خانوں میں فحش کی بکری کرتے ہوئے نظر آئیں گے کیا اُن کے قوانین نے ، اُن کی حکومت نے ، ان کی دولت و ثروت نے ، اُن کی عزت کو قائم رکھا؟ اور کیا خدا تعالیٰ کا قانون تو ڑ کر وہ اپنی عزت محفوظ رکھ سکے؟ پس یا درکھو یہ محض خیال اور وہم ہے کہ فلاں چیز عزت محفوظ رکھ سکے گی اور فلاں چیز خاندان کو تباہی سے بچالے گی۔عزت خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی مل سکتی ہے اور اُسی کی فرمانبرداری میں قائم رہ سکتی ہے۔اگر ہم بھی اِن امور پر سنجیدگی سے عمل کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ مجلس مشاورت قائم کرنے اور اس میں بحثیں کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔صحابہؓ کا قول اور عمل اگر ہم وہ جرات نہیں دکھا سکتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بدر کے موقع پر دکھائی۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ