خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 238
خطابات شوری جلد دوم ۲۳۸ مشاورت ۱۹۳۷ء اس کے بعد میں یہ ذکر کرنا چاہتا شعبه صنعت و حرفت کے بارہ میں ہدایات ہوں کہ دارالصناعت والوں نے جہاں صنعت و حرفت کا کام ہوتا ہے ایک نمائش کا انتظام کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ میں اُن کے متعلق کچھ سفارش کر دوں۔میری تقریر کے بعد غالباً اتنا وقت تو نہیں رہے گا کہ سب دوست نمائش دیکھ سکیں لیکن پھر بھی جو دوست یہاں رہیں انہیں ضرور کوشش کرنی چاہئے کہ وہاں جائیں اور جن چیزوں کی انہیں ضرورت ہو وہ خریدیں۔یہ صنعت و حرفت کا کام دراصل بیتامی وغرباء کی پرورش کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ترکھانے کا کام تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک کامیاب ہوا ہے۔لوہارا کام بھی ہو رہا ہے اور چمڑے کا کام بھی جاری ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ انہیں جس چیز کی ضرورت ہو وہ یہاں سے خرید لے جائیں اور کوشش کریں کہ ان چیزوں کی باہر ایجنسیاں گھل جائیں۔اس کا زیادہ تر فائدہ قوم کے بیتامی کو ہی پہنچے گا اور جو زائد آمد ہوگی وہ تبلیغ اسلام کے کام آئے گی۔اسی طرح تحریک جدید کے ماتحت دہلی میں ایک دواخانہ کھولا گیا ہے۔ویدک یونانی دواخانہ “ اس کا نام ہے۔دہلی سے لوگ عام طور پر دوائیں منگواتے رہتے ہیں۔اگر اب دوست اس کارخانہ سے جو تحریک جدید کے ماتحت جاری کیا گیا ہے دوائیں منگوائیں گے تو چونکہ سلسلہ کی طرف سے بھی اس میں ایک حصہ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کا بہت سا نفع قومی ضروریات پر ہی خرچ ہو گا۔مجھے تحفہ کے طور پر اس دوا خانہ والوں کی طرف سے ماء اللحم دیا گیا ہے، میں نے اُسے چکھا تو وہ مجھے صحیح معلوم ہوا، کیونکہ ماء اللحم کا ذائقہ اور خوشبو اُس میں موجود تھے۔اسی طرح اور بھی بہت سی ادویہ ہیں اور چونکہ سلسلہ کے اموال کا ایک حصہ اس پر خرچ ہوا ہے اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اس دوا خانہ کے کارکن دیانتداری سے کام کریں گے اور کسی کو نقصان نہ ہونے دیں گے۔ان کے علاوہ بعض اور کارخانے بھی ہمارے مدنظر ہیں۔پھر سندھ میں ہماری جو زمینیں ہیں وہاں ایسے دوست جن کی زمین نہیں اگر کاشتکار بن کر چلے جائیں تو اُن کے لئے بھی کام کا موقع ہے۔گو ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم پنجابیوں کو ہی وہاں جمع نہیں کرتے بلکہ سندھ کے لوگوں کو بھی کام کرنے کا موقع دیتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے دوستوں کے لئے ابھی موقع ہے، اور جو جانا چاہیں وہ وہاں اچھا کام اپنے لئے مہیا کر سکتے ہیں۔