خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 226
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۶ الفضل کو مالی بجٹ کے بارہ میں ہدایات مشاورت ۱۹۳۷ء ایک بات تجارتی صیغوں کے متعلق ہے جو بہت ہی قابلِ توجہ ہے اور وہ یہ کہ جب میں نے ”الفضل“ کے بجٹ کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ الفضل کا مالی پہلو خطرناک ہو رہا ہے۔چونکہ خود میں نے ”الفضل“ جاری کیا تھا اس لئے مجھے بھی چھپوائی کا تجربہ ہے اور میں بجٹ کو دیکھتے ہی سمجھ جاتا ہوں کہ اس میں کسی جگہ غلطی ہو رہی ہے۔اسی وجہ سے میں نے الفضل کے بجٹ کی تفصیلات محکمہ متعلقہ سے طلب کیں، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ الفضل والوں نے جواب دیا ہے کہ ہم تفصیلی حساب نہیں رکھا کرتے۔اگر یہ جواب صحیح ہے تو یہ اور بھی خطر ناک بات ہے۔جب وہ تفصیلی حساب رکھتے ہی نہیں تو یہ کیونکر پتہ لگ سکتا ہے کہ ان کا حساب صحیح ہے۔اگر کسی شخص کا کوئی ذاتی حساب ہو تو اس کے متعلق اس کا یہ عذر تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن جب یہ ذاتی حساب نہیں تو ڈائریوں سے صحیح حساب کا پتہ کس طرح لگ سکتا ہے۔صحیح حساب کا پتہ ہمیشہ کھاتوں سے لگتا ہے اور اسی کے ذریعہ صحیح معلومات حاصل ہوا کرتی ہیں لیکن جب الگ الگ کھاتے نہ رکھے جائیں تو حساب کے صحیح ہونے کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔پس یہ صورتِ حالات نہایت تشویشناک ہے جسے جلد سے جلد دور کرنا چاہئے اور گزشتہ حسابات تیار کرانے چاہئیں بلکہ صدر انجمن احمدیہ کو اُس وقت تک بجٹ منظور نہیں کرنا چاہئے تھا جب تک وہ تمام تفصیلات مہیا نہ کر لیتی۔اب جو بجٹ ہمارے سامنے ہے اس میں بادی النظر میں کئی قسم کی غلطیاں معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً میں نے جب ٹکٹوں کا خرچ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اُس میں دس ہزار نو سو روپے کے ٹکٹ رکھے گئے ہیں۔اگر نو سو روپیہ کے ٹکٹ عام ڈاک اور خط وکتابت کے لئے رکھ لئے جائیں تو دس ہزار کا ٹکٹ باقی رہ جاتا ہے۔ان دس ہزار کے چھ لاکھ چار ہزار پیسے بنتے ہیں، اور دو ہزار پچاس ایسا پر چہ بنتا ہے جو اس ٹکٹ کے ماتحت بھیجا جا سکتا ہے حالانکہ اول تو اتنی خریداری نہیں پھر کچھ ایجنسیاں ہوتی ہیں، اور ایجنسیوں کو جو پرچہ بھیجا جاتا ہے وہ ریل کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے ڈاک کے ذریعہ نہیں بھیجا جاتا۔پھر کچھ مفت پر چہ جاتا ہے اور جو قادیان میں اخبار تقسیم کیا جاتا ہے اس پر بھی ٹکٹ نہیں لگتا۔لیکن اگر یہ ٹکٹوں کا خرچ درست ہے تو پھر آمد کا بجٹ کم معلوم ہوتا ہے کیونکہ ٹکٹوں کے حساب سے کم سے کم بائیس سو خریدار ہونا چاہئے جس کی