خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 223
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۳ مشاورت ۱۹۳۷ء ہوں۔اسی طرح اگر وہ کوئی کتاب لکھنا چاہیں تو میں اس کی آؤٹ لائنس یعنی بیرونی نقشہ اُنہیں اجمالی طور پر بتا سکتا ہوں۔پانچویں چیز جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو طلباء کی تعلیم کیلیے ہدایات توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ملازمت کے بارہ میں تعلیم کا خیال ہے۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا جو عام طریق جاری ہے یہ ہر قسم کی ملازمتوں کے لئے کافی نہیں۔اگر ہماری جماعت کے تجربہ کار اصحاب اطلاع دیتے رہیں کہ فلاں فلاں قسم کی ملازمتیں ہیں اور ان کے لئے تعلیم کا فلاں فلاں معیار ہے اور پھر ہمارے دفاتر میں ایک لسٹ تیار رہے تو بہت سی نئی شاخوں میں ہماری جماعت کے دوست کام کر سکتے ہیں۔اب ہمارے ملک میں جب بھی کوئی تعلیم حاصل کرتا ہے تو یا وہ ڈاکٹر بنتا ہے یا وکیل۔۱۰۰ میں سے کوئی ایک ہوتا ہے جو انجینئر نگ کا خیال کرتا ہے۔گویا تین کام ہیں جو ہمارے نوجوانوں کے سامنے ہوتے ہیں، یا ڈاکٹری یا وکالت اور یا پھر تحصیلداری اور ای۔اے سی وغیرہ۔حالانکہ ملازمتوں کا یہ سواں حصہ ہے۔اسی وجہ سے ننانوے فیصدی لڑکے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی ملازمت نہیں ملتی۔بہت بڑی کوششوں کے بعد یا وہ مدرسی کی طرف چلے جاتے ہیں یا کلر کی کی طرف۔میں نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ دوست ملازمتوں کے بارہ میں معلومات بہم پہنچائیں مگر اس بارہ میں بہت ہی کم معلومات مہیا کی جاتی ہیں۔اس لئے اس موقع پر میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مختلف قسم کی ملازمتوں کے متعلق ہمیں اطلاع دیں اور یہ بھی لکھیں کہ کس کس قسم کی تعلیم ان ملازمتوں کے حصول کے لئے ضروری ہے۔مثلاً فوج والے اپنے محکمہ کے متعلق اطلاع دے سکتے ہیں کہ اس اس قسم کے تجربہ اور لیاقت والے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔انجینئر اپنے محکمہ کے متعلق اطلاع دیں۔اسی طرح اب ہم نے یہاں لوہے کا کام شروع کیا ہے۔لوہے کے ایکسپرٹ اس بارہ میں بھی مشورہ دے سکتے ہیں۔ڈاکٹری میں بھی مشورہ دیا جا سکتا ہے اور پھر ڈاکٹری بھی دو قسم کی ہوتی ہے، ایک انسانی اور ایک حیوانی۔پھر دندان سازی کا کام اب شروع ہے جو جلد جلد ترقی کر رہا ہے۔غرض جماعتوں اور افراد کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور اپنے بچوں کو بغیر سوچے سمجھے تعلیم نہیں دلوانی چاہئے کیونکہ اس طرح اُن کی عمریں ضائع چلی جاتی ہیں۔