خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 220

خطابات شوری جلد دوم ۲۲۰ مشاورت ۱۹۳۷ء تک تمہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔گویا پہلے اعتراض کرنا نیکی تھا اور پھر خاموش رہنا نیکی بن گیا۔تو ایسے لوگ جو وقتی امور کو نیکیاں قرار دینے لگ جائیں وہ تھالی کے بینگن ہوتے ہیں۔جو کبھی بھی کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچتے حالانکہ بحث ہمیشہ اصولی ہونی چاہئے۔مثلاً اگر میں مضمون لکھتا ہوں تو یہ دیکھتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قومی ضرورتوں کے مطابق کس طرح ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ رہتے تھے اور آیا جن قربانیوں کی اُس وقت ضرورت تھی ، وہ آپ پیش کرتے تھے یا نہیں۔میں یہ نہ دیکھتا کہ آپ کے کپڑوں پر ۱۲ پیوند ہیں یا نہیں، بلکہ میں یہ دیکھتا کہ اُس وقت زمانہ جن قربانیوں کا تقاضا کرتا تھا اُن میں آپ نے کس سرگرمی سے حصہ لیا۔اگر ۱۲ پیوند لگانے ہی نیکی ہوں تو پھر ہم سب گناہ گار سمجھے جائیں گے، کیونکہ ہم میں سے کسی کے کپڑے پر ۱۲ پیوند نہیں ہوں گے۔ہاں ایک یا دو پیوند کبھی کبھار تو سوائے تعیش پسند لوگوں کے سب کے نکل آئیں گے لیکن ۱۲ پوند سینکڑوں میں سے کسی ایک کے ملیں گے۔خصوصاً شهری بود و باش والوں میں اور ۱۲ پیوند به تعہد رکھنا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی ثابت نہ ہو گا جو طبعاً بہت بڑے زاہد تھے۔دراصل یہ سب غلط خیالات ہیں جو لوگوں میں رائج ہیں اور انہی غلط خیالات کے نتیجہ میں انبیاء اور مامورین پر اعتراض واقع ہو جاتا ہے اور پڑھنے والا سمجھتا ہے کہ جس کے ۱۲ پیوند نہیں وہ روحانیت سے گرا ہوا ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ روحانیت کی علامت نہیں بلکہ سادگی کا ایک رنگ ہے جو ہر زمانہ میں بدلتا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ مومن کا کام یہ ہے کہ جہاں خدا اُس کو رکھے رہے اگر فاقہ میں رکھے تو فاقوں میں خوش رہے اور اگر آسودگی سے رکھے تو اُس میں خوش رہے۔غرض ایسے امور کو نیکیاں قرار دینا بالکل غلط اصول ہے۔نیکی یہ ہے کہ جب دین کی طرف سے مطالبہ ہو تو اُس وقت انسان مطالبہ کے مطابق قربانی پیش کر دے۔نیکی کی اس تعریف کو سامنے رکھ کر دیکھ لوکسی پر بھی اس کے نتیجہ میں اعتراض پیدا نہیں ہوگا نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر۔لیکن اگر اس کی بجائے ہم یہ کہیں کہ روحانیت کا معیار یہ ہے کہ جب دینی ضروریات کے متعلق مطالبہ ہو تو انسان سو فی صدی اپنا مال دے دے تو اس کے مطابق سوائے حضرت ابوبکر کے باقی