خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 216

خطابات شوری جلد دوم ۲۱۶ مشاورت ۱۹۳۷ء نہ ہمیں ضرورت ہے اور نہ ان کی کتابیں دُنیا کے لئے مفید ہوسکتی ہیں۔میرا خطاب صرف اُن دوستوں سے ہے جو عقل سے کام کریں۔یہ نہیں کہ مجھے مجبور کریں کہ میں اُن کی کتاب پر ضرور ر یو یو کروں اور ریویو بھی تعریفی ہو اور تعریفی بھی ایسا اہم ہو کہ اس میں لکھا جائے کہ ساری جماعت اس کی طرف توجہ کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست تھے، انہیں کچھ جنون کا عارضہ ہو گیا تھا۔اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام من الرحمن لکھ رہے تھے اُس میں آپ نے بیان فرمایا کہ عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے۔اُس دوست کے دماغ میں چونکہ کچھ جنون تھا اس لئے یہ سُن کر انہوں نے بھی الفاظ کی جستجو شروع کر دی اور عجیب عجیب الفاظ نکالنے شروع کر دیئے۔ایک دن کہنے لگے لوگ کہتے ہیں مرچوں کا قرآن مجید میں کوئی ذکر نہیں، یہ بالکل غلط ہے۔قرآن مجید میں جو اللؤلؤ والمرجان ) کے الفاظ آتے ہیں، اس میں مرجان مرچوں کو ہی کہا گیا ہے۔پھر دلیل یہ دی کہ مرچیں بھی لال ہوتی ہیں اور مرجان بھی لال ہوتا ہے۔غرض قرآن کریم کی عبارات میں وہ تمام پنجابی الفاظ ثابت کرتے۔اس قسم کے مصنفوں کی ہمیں ضرورت نہیں۔مصنف وہ ہوں جو ہوش وحواس قائم رکھتے ہوں اور عقل و فکر سے کام لینے والے ہوں۔یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ کوئی ایسا فلسفہ نکالیں جس سے دُنیا میں تہلکہ مچ جائے۔بلکہ ایسی باتیں لکھی جائیں جو عام سمجھ کے مطابق ہوں اور جن میں اسلام پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں اُن کا حل کیا گیا ہو۔مثلاً مؤرخین کی کتابیں ہیں ان میں مسلمان بادشاہوں پر سخت ظلم کئے گئے اور ان پر نہایت گندے الزامات لگائے گئے ہیں۔ہم بے شک اُن کی بے جا تعریف نہیں کر سکتے مگر جتنی نیکی اُن میں تھی اُس کو قائم بھی تو رکھنا چاہئے۔مثال کے طور پر میں کہتا ہوں اور نگ زیب کو حضرت مسیح موعود اور نگ زیب کا مقام علیہ الصلوۃ والسلام مجد دکہا کرتے تھے اور بیسیوں دفعہ آپ نے اُسے مجد د کہا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا خیال تھا کہ اکبر مجد د ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا ہم اکبر کو اچھا نہیں سمجھتے البتہ اورنگ زیب کو مجد د سمجھتے ہیں۔لیکن اور نگ زیب کی شکل تاریخوں میں نہایت ہی تاریک