خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 8
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء گزر رہا تھا کہ کوئی اجنبی قرآن کریم پڑھ رہا تھا۔جب اُس نے یہ آیت پڑھی کہ آلمریان للذين أمنوا أن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ الله ا یعنی کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ایماندار کہتے ہیں اُن کے دلوں میں خشیت اور ڈر پیدا ہو؟ تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ مجھ پر بجلی گر پڑی ہے۔میں نے اُسی وقت تو بہ کی۔جہاں تک مجھ سے ہوسکا میں نے اُن مظالم کا کفارہ ادا کیا جو دوسروں پر کر چکا تھا اور پھر حج کے لئے چلا آیا۔مغلوب کی اصلاح کے اوقات تو ایسے اوقات آتے ہیں جب قلوب کی اصلاح ہو جاتی ہے مگر ان وقتوں کو لانے کی کوشش بھی تو کرنی چاہئے۔اس کے لئے اپنے ارادوں میں تغیر کرنا ضروری ہوتا ہے، اپنی نیتوں کو بدلنا ضروری ہوتا ہے، اپنے اندر بحجز وانکسار پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔بیشک اس شخص کے کان میں اُس وقت آواز پڑی جب وہ بازار میں سے گزر رہا تھا لیکن اُس نے اپنے آپ کو بازار میں پہنچایا تو تھا۔اسی طرح ہماری کامیابی بھی خدا تعالیٰ کے فضل پر ہی منحصر ہے مگر اس فضل کو جذب کرنے میں ہماری کوشش کا بھی دخل ہے۔جیسا کہ ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص پرندوں کو دانہ ڈالا کرتا تھا کسی نے کہا اِس کو اِس کا کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے یہ تو کافر ہے۔آخر جب وہ ایمان لے آیا اور اُس سے پوچھا گیا کہ تم کس طرح ایمان لائے؟ تو اُس نے کہا وہی پرندوں کو دانے ڈالنا میرے کام آ گیا۔اسی طرح لکھا ہے ایک صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کفر کی حالت میں میں نے جو نیک اعمال کئے اُن کا بھی مجھے کچھ فائدہ ہوگا؟ فرمایا۔اَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ اُس وقت تم نے جو نیک اعمال کئے اُنہی کا نتیجہ ہے کہ تم اسلام لائے ، انہی کی وجہ سے تمہیں ایمان لانے کی توفیق حاصل ہوئی۔پس اس شخص کے لئے نصیحت حاصل کرنے کی گھڑی بازار میں آئی مگر اس کے پیچھے اس کا کوئی عمل ضرور تھا۔اسی طرح تمہارے لئے بھی کامیابی کی گھڑی آسکتی ہے مگر اس کے لئے بھی تیاری کی ضرورت ہے۔دوستوں کے سوال اس وقت میں بھی دوستوں سے پوچھتا ہوں۔آلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ امَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ۔کیا ابھی وقت نہیں آیا جب کہ اسلام کی تباہی اور احمدیت کی بے کسی ان پر اثر کرے اور وہ یہ کہنے کے لئے تیار ہو