خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 209

۲۰۹ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم بتاتی ہیں کہ یا تو بقائے نکالنے میں غلطیاں کی گئی ہیں اور یا پھر جماعت کے بعض حصے نہایت ہی کمزور ہو گئے ہیں اور بیت المال والوں نے اُن کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔اندھا دھند پنسل اُٹھائی اور اُن کے ذمہ بقائے لکھتے گئے اور یہ کوشش نہ کی کہ ان بقالوں کو وصول کریں۔میں سالہا سال سے پرائیویٹ طور پر ان امور کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ بیت المال کا دفتر کسی اصول کے ماتحت کام نہیں کرتا حالانکہ اُن کے پاس ہر جماعت کے چارٹ ہونے چاہئیں ، تا وہ ہر مہینہ میں بتا سکیں کہ کون سی جماعت ایسی ہے جس کی کمزوری کی وجہ سے چندے میں کمی آرہی ہے اور پھر بتانا چاہئے کہ اس کمی کا انہوں نے علاج کیا کیا۔براہ راست چندہ بھجوانے کے نقصان ایک اور بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے یہ ہے کہ بعض افراد کے براہِ راست چندے بھیجنے سے یہ نقص واقع ہو جاتا ہے کہ جماعت کے چندہ میں کمی آجاتی ہے اور وہ بقایا دار سمجھی جاتی ہے۔میرے نزدیک یہ بھی صحیح ہے میرے پاس تو جب بھی اس قسم کی کوئی شکایت آتی ہے کہ بعض دوست کسی وجہ سے ناراض ہو گئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم براہ راست چندہ بھیجیں گے تو میرا اُس پر نوٹ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کے چندوں کی کوئی ضرورت نہیں جن میں کبر کا مادہ پایا جاتا ہے۔یا تو وہ اپنی ناراضگیوں کو سلسلہ کے ماتحت کریں اور ایک نظام کے ماتحت کام کریں۔اور اگر اس بات کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم ان کا چندہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔غرض اس قسم کی مثالیں بھی قابل غور ہیں اور میں ناظر صاحب بیت المال کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ آئندہ ایسے لوگوں کو جو کسی جماعت کا فرد ہونے کے باوجود براہِ راست چندہ بھیجتے ہیں، ہدایت کر دیں کہ تم قواعد کے مطابق چندہ دو، ور نہ ہم تمہارا چندہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔گو یہ قاعدہ ہر جگہ چسپاں نہیں ہوسکتا۔بعض لوگ براہ راست چندہ بھیجتے ہیں، اور اپنے ضلع کی جماعت کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ اُنہوں نے اتنا چندہ بھیجا، اور اس طرح وہ بھی ایک نظام میں سمجھے جاتے ہیں۔بہر حال بیت المال کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرے اور سوچے کہ آئندہ کیا قانون ہونا چاہئے۔میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں اگر مختلف ضلعوں کے لئے مختلف قانون ہوں۔لیکن