خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 204

خطابات شوری جلد دوم ۲۰۴ مشاورت ۱۹۳۷ء کو دیکھیں تو ایک لاکھ سات ہزار بقائے کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ۱۹۳۲ء سے اس وقت تک صرف ایک لاکھ سات ہزار کا بقایا کیوں رہا ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ اڑھائی تین لاکھ کا بقایا ہوتا۔یا تو ہم یہ فیصلہ کر چکے ہوتے کہ فلاں وقت تک کے بقائے بالکل صاف ہیں لیکن جب ہم نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ فلاں وقت تک کے تمام بقائے معاف ہیں تو سات آٹھ سال کے بقائے دو تین لاکھ سے کسی صورت میں کم نہیں ہو سکتے۔ناظر صاحب بیٹ المال کا کوئی حق نہیں کہ بغیر خلیفہ وقت کی منظوری کے ان بقالوں کو خود ہی صاف کر دیں۔پس ایک نقطہ نگاہ یہ بھی ہے۔لیکن اگر پہلے نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو بقالوں کا اندازہ بادی النظر میں ہی غلط اور زیادہ معلوم ہوتا ہے۔پس میں ناظر صاحب بیت المال کو ہدایت کرتا ہوں کہ جس قدر جلد ممکن ہو وہ اِن دونوں نقطہ ہائے نگاہ کے ماتحت بقایوں کی ایک فہرست تیار کر کے میرے سامنے پیش کریں۔ایک تو گزشتہ بجٹوں کی تشخیص اور اصل آمد کو مد نظر رکھ کر بتائیں کہ کیا واقعہ میں صرف ایک لاکھ سات ہزار بقایا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ صحیح نہیں، بقایا دو لاکھ سے بھی اوپر ہونا چاہئے تھا۔دوسرے تمام جماعتوں کے متعلق تشخیص کریں کہ کیا اُن کے متعلق بقائے لگانے میں کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی اور وہ اپنے مستقل اور آنریری محصلین کو ہدایت کریں کہ وہ جماعتوں میں دورے کر کے ان بقایوں کو وصول کریں۔یہ غلطیاں جو فیروز پور کے نمائندہ نے بیان کی ہیں اتنی واضح ہیں کہ اگر نمائندہ فیروز پور کا بیان درست ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دفتر بیت المال کا کوئی حصہ نہایت غفلت سے کام کر رہا ہے۔پھر اس کو دیکھ کر نہ صرف بقایوں میں شبہ پڑ جاتا ہے بلکہ آمد بھی مشتبہ ہو جاتی ہے کیونکہ ان جماعتوں کے نہ صرف بقائے دکھائے گئے ہیں بلکہ ان کی مجوزہ آمد بھی دکھائی گئی ہے۔اب اگر بقائے درست نہیں اور جس جس جگہ کی جماعتوں کے افراد کے ذمہ بقایا دکھایا گیا ہے، وہ مثلاً وہاں سے تبدیل ہو چکے ہیں اور ہم اُنہیں بقایا دار لکھتے گئے ہیں تو لازماًیہ شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بجٹ آمد بھی درست نہیں۔کیونکہ ممکن ہے کہ کئی افراد کا چندہ ہم دو جگہ دکھا رہے ہوں۔وہاں بھی جہاں وہ اس وقت ہیں اور وہاں بھی جہاں وہ اس سے پہلے تھے۔پس ممکن ہے کہ اگر تحقیق کی جائے تو آمد کا بجٹ دو لاکھ باون ہزار بھی نہ رہے بلکہ اس