خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 202

خطابات شوری جلد دوم ۲۰۲ مجلس مش مشاورت ۱۹۳۷ء پھر جس چیز کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ وہ ضروری اور یقینی ہے اُس کے لئے صرف مادی امداد کافی نہ سمجھو بلکہ دُعا بھی کرو۔کیونکہ کوئی مقام ایسا بھی آجاتا ہے جہاں خدا تعالیٰ سامانوں کو اُڑا دیتا ہے۔پس جہاں بے سامانی ہو وہاں دعاؤں سے سامان تلاش کرو اور جہاں سامانوں کی کثرت ہو، وہاں ایمان کو نظر انداز ہونے سے بچاؤ۔گویا جہاں سامان نہیں وہاں دعاؤں کی دیواریں کھڑی کرو اور جہاں سامانوں کی کثرت ہو اور دیواریں تمہیں مکمل نظر آتی ہوں وہاں اُن دیواروں پر ایمان کا پلستر لگاؤ کیونکہ اس کے بغیر دیواریں بھی اُڑ سکتی ہیں۔اگر ان امور کو مد نظر رکھو گے تو تمہارے مشورے بھی مفید ہو سکتے ہیں۔ورنہ خالی مشورے دینا اور پھر اُن پر عمل نہ کرنا اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور میں نہیں سمجھتا جب اخباروں میں اعلان پر اعلان ہوتے ہیں کہ احباب اپنے وعدوں کو پورا کریں اُس وقت دشمن کیا کہتا ہوگا کہ جماعت کے لوگ یہاں آتے ہیں ، مشورے دیتے ہیں اور پھر اُن پر عمل نہیں کرتے۔پس اگر اپنے نفس کے متعلق ایک فیصلہ کر لو تو تمہارا فرض ہے کہ اس کے مطابق کام کرو۔اگر اس میں کوئی غلطی بھی ہوگی تو چونکہ دیانتداری سے تم ایک کام کر رہے ہو گے اس لئے اللہ تعالیٰ اس غلطی کے بدنتائج سے تمہیں محفوظ رکھے گا اور اگر تم اس جد و جہد میں مر بھی جاؤ تو تم اس سپاہی کی طرح ہو گے جس نے اپنے فرض کو ادا کر دیا، اور میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے مارا گیا۔اس نصیحت کے بعد میں چاہتا ہوں کہ اب بجٹ کے متعلق عام مشورہ شروع کیا جائے۔“ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں چند ممبران نے اپنی آراء پیش کیں جس کے بعد حضور نے بجٹ کی منظوری فرمائی۔اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے احباب کو اپنے الوداعی خطاب سے نوازا۔تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے سورہ الصف کی درجہ ذیل ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائی :- بسم الله الرّحمن الرّحيم سبع للهِ مَا فِي السّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ