خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 201
خطابات شوری جلد دوم ۲۰۱ مشاورت ۱۹۳۷ء ہو کہ جماعت کے لوگ چندہ ضرور دیں گے تو اپنے نفس کو دیکھ لو کہ آیا تمہارے ذمہ کوئی بقایا تو نہیں؟ اور اگر ہو تو تم اپنے نفس میں یہ عہد کر لو کہ گومیں پہلے کمزوری دکھا چکا ہوں لیکن اب آئندہ نہایت با قاعدگی سے چندے ادا کروں گا تو اس صورت میں تم خرچ کرنے کے متعلق رائے دے سکتے ہو۔اس عہد کے لئے کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، انسان چپکے چپکے اپنے دل میں ایسا عہد کرے، اور پھر دیانتداری سے اپنی رائے دے لیکن اب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کے ذمہ خود کئی کئی مہینوں کے بقائے ہوتے ہیں اور وہ چندوں کی ادائیگی کے متعلق زور شور سے تقریر کرنے لگ جاتا ہے۔ایک دفعہ اسی مجلس شوریٰ میں ایک شخص نے بڑے زور سے اس بات پر تقریر کی کہ چندے با قاعدہ ادا کرنے چاہئیں لیکن وہ تقریر کر کے بیٹھا ہی تھا کہ ایک دوسرے نے کہا کہ اس شخص نے خود گیارہ ماہ سے چندہ نہیں دیا۔اب وہ تقریر اخباری لحاظ سے ایمان پرور “ کہلانے والی تھی لیکن تقریر کرنے والے کی اپنی حالت یہ تھی کہ اُس نے گیارہ ماہ سے چندہ نہیں دیا تھا۔تو ایسے حالات میں انسان کے لئے بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو دیکھے اور جب بھی رائے دینے لگے وہ سوچے کہ میں نے کیا رکیا ہے یا آئندہ کیا کرنے والا ہوں۔اگر وہ بقایا دار ہے تو پہلے دل میں تو بہ کر کے رائے دے اور کہے کہ ہم میں کچھ کمزور بھی ہیں اور طاقتور بھی لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ کمزور لوگ بھی آئندہ متوجہ ہوں گے اور وہ چندوں کی ادائیگی میں چست ہو جائیں گے۔تب اُس کے لئے چندوں کی زیادتی یا خرچ کی زیادتی کے متعلق رائے دینا جائز ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ اس قسم کا عہد نہ کرے اور کوئی دوسرا اُس کے اندرونے کا انکشاف کر دے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ اُس نے لوگوں کو دھوکا دینا چاہا تھا اور اُس کی تمام تقریر اس لئے تھی کہ اس کی کمزوری پر پردہ پڑا ر ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست اپنے مشوروں میں ان امور کو مدنظر رکھیں گے کہ اپنے نفس کو بُھول کر اندازہ نہیں لگائیں گے اور دُنیا کو بُھول کر اندازہ نہیں لگائیں گے۔اسی طرح جہاں مایوسی نظر آتی ہو وہاں مایوس نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفت احیاء پر ایمان رکھیں گے کیونکہ تو کل جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ جب چاروں طرف مایوسی ہی مایوسی نظر آئے تو اُس وقت یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کی نصرت آنے والی ہے۔