خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 200

خطابات شوری جلد دوم مجلس مش مشاورت ۱۹۳۷ء کامیابی کی امید نہیں ہے۔انگریزی قوم اس واقعہ کی یاد کو کئی رنگوں سے زندہ رکھتی ہے تاریخ میں بھی اور ریڈروں میں بھی ، نثر کے ذریعہ سے بھی اور نظم کے ذریعہ بھی اور اس بات پر فخر کیا کرتی ہے کہ اُس کے سپاہیوں نے اطاعت کا کیسا شاندار نمونہ دکھایا۔تو سپاہی کا کام یہ ہے کہ وہ اطاعت اور ایثار کا نمونہ دکھائے۔اگر اُسے کسی غلطی کا علم ہو تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اطلاع ذمہ وار افسروں تک پہنچا دے لیکن جب افسر کہے کہ میں اس حکم کو قائم رکھنے پر مُصر ہوں، تو وہ اس حکم کی اطاعت کرے اور خدا کی آواز پر جو بعض دفعہ واقعات میں سے آتی ہے چل پڑے اور جس قدر بوجھ اٹھا کر جاسکتا ہے جائے۔اگر دس گز جا سکتا ہے تو دس گز جائے ، ہمیں گز جا سکتا ہے تو ہیں گز جائے۔ہاں جب وہ ڈھیر ہو جائے گا تو اس کا کام ختم ہو جائے گا اور پھر خدا کسی اور کو اس کی جگہ کھڑا کر دے گا۔غرض تو کل کا مقام ہمیشہ انسان کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ جو کام ہمارے سامنے ہیں وہ ضروری ہیں یا نہیں؟ اور پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا ان کاموں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو بغیر گناہ کے ہم چھوڑ سکتے ہیں؟ اگر چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں۔گویا پہلا کام یہ ہے کہ ہم عقل سے کام لیں اور دیکھیں کہ یہ کام ضروری ہیں یا نہیں اور جب عقل ختم ہو جائے اور معلوم ہو جائے کہ ہم کسی کام کو نہیں چھوڑ سکتے ، تو اُس وقت یہی حکم ہے کہ کرو اور مر جاؤ۔یعنی نیت یہی ہو کہ مر جاؤ۔آگے اللہ تعالیٰ زندہ رکھنا چاہے تو الگ بات ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مرنے کے لئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام مارنے کے لئے تیار ہو گئے تھے ، لیکن خدا تعالیٰ نے بچا لیا۔بہر حال اپنی طرف سے وہ موت کے لئے بالکل تیار ہو گئے تھے، اسی طرح مومن کا فرض ہے کہ جب وہ دیکھے کہ اس کے سامنے جو بوجھ ہیں ان کو اُٹھانا اس کے لئے ضروری ہے، تو وہ انجام سے بے پرواہ ہو کر اُس بوجھ کو اُٹھائے۔مگر اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے کہ تمہاری رائے دیانتدارانہ ہے یا نہیں۔میں تم کو ایک نکتہ اور گر بتادیتا ہوں۔وہ نکتہ یہ ہے کہ گو میں نے ابھی بتایا تھا کہ اپنے نفس کے غلط اندازے کو کبھی دوسرے پر چسپاں نہیں کرنا چاہئے لیکن یہ بھی یا درکھو کہ جس حد تک ہم مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں ، اس کی بنیاد اپنے نفس کے حالات پر ہی رکھ سکتے ہیں۔لیکن اس صورت میں نہیں جو میں نے پہلے بتائی تھی بلکہ اس صورت میں کہ مثلاً جب تم کہتے