خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 199
خطابات شوری جلد دوم ۱۹۹ مشاورت ۱۹۳۷ء پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے نفس کے متعلق اندازہ نہیں لگاتے بلکہ دوسروں کے متعلق ہی اندازہ لگانے کے عادی ہوتے ہیں۔اس قسم کے لوگوں میں سے بعض کو ساری دنیا کالی نظر آتی ہے اور بعض کو ساری دنیا سفید دکھائی دیتی ہے۔کوئی تو کہتا ہے کسی نے چندہ نہیں دینا، بجٹ جس قدر گھٹا سکتے ہو گھٹاؤ اور کوئی کہتا ہے بجٹ جس قدر بڑھانا چاہتے ہو بڑھاؤ کوئی پرواہ نہیں لوگوں سے چندہ مانگا جائے تو ضرور مل جائے گا۔اور دونوں میں سے کوئی بھی واقعات کو نہیں سمجھتا اور کوئی بھی اس امر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ کمزوریاں دونوں طرف سے ہو جاتی ہیں۔پھر ایک اور امر جس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یہ ہے کہ انسان اندازہ لگاتے وقت یہ نہیں سوچتا کہ یہ خدا کا کام ہے جو ہو کر رہے گا، میرا فرض صرف اتنا ہے کہ میں کام کرتے کرتے اپنے آپ کو فنا کر دوں۔زیادہ سے زیادہ اگر وہ غور کر سکتا ہے تو اس بات پر کہ وہ دیکھے جو کام ہم نے چلانے ہیں یہ ضروری ہیں یا غیر ضروری۔اگر غیر ضروری ہیں تو ان سب کو کاٹ دو اور اگر ضروری ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو پورا کریں اور جس قدر کوشش کر سکتے ہیں کریں۔اگر ہم اس بوجھ کو اُٹھا کر صرف دس گز تک جا سکتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم دس گز تک اُٹھا کر لے جائیں اور سمجھیں کہ آگے جس قدر فاصلہ ہے اُس میں خدا خود اس بوجھ کو اُٹھائے گا۔جیسے سپاہی کا کام یہ ہے کہ وہ لڑتا جائے ، ہاں جب وہ مر جائے گا تو اُس کا فرض ختم ہو جائے گا اور گورنمنٹ خود اُس کام کو سنبھالنے کا فکر کرے گی۔اسی طرح مومن کا کام یہ ہے کہ وہ قربانی کرتا چلا جائے یہاں تک کہ اپنے آپ کو مٹا دے۔انگریزی قوم ایک واقعہ پر فخر کیا کرتی ہے اور واقعہ میں اس کا وہ فخر بالکل جائز ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ غالباً کریمیا کی جنگ میں جبکہ ترکوں کی اعانت پر انگریزی حکومت بھی تھی، روسی فوج کے ایک دستہ کے بڑھنے کی اطلاع ملی۔اس مقام کا نام بیلا کلا وا تھا۔انگریزی جنرل نے ایک دستہ رسالہ کو اس فوجی دستہ کو روکنے کا حکم دیا۔افسر کو بتایا گیا کہ روسی فوج کا ایک دستہ نہیں بلکہ اصل فوج آگے بڑھ رہی ہے، مگر اُس نے اسے تسلیم نہ کیا۔اس پر انگریزی رسالہ کے افسر نے بلا چون و چرا احملہ کر دیا اور روسی فوج سے مقابلہ کر کے وہ رسالہ قریباً سب کا سب فنا ہو گیا اور یہ جانتے ہوئے فنا ہو گیا کہ جو کام وہ کر رہا ہے اس میں اُسے