خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 6

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دیانت دار لوگ ہیں، اگر ہم امین لوگ ہیں ، اگر ہم سنجیدہ لوگ ہیں تو ہمارا دعویٰ ایسا دعویٰ ہے جو زمین و آسمان کو ہلا دینے والا دعوئی ہے۔دیکھو اگر کہیں کوئی معمولی نمائش ہونے والی ہوتی ہے تو لوگ سال بھر یا تو دس ماہ پہلے سے اُس کا انتظار کرنے لگ جاتے ہیں اور جب اُس نمائش کے کام کو ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں آدمی اس کی تیاری میں لگے ہوتے ہیں۔ہم وہاں ایک خاص قسم کی بیداری اور چستی محسوس کرتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ نمائش میں حصہ لینے والے لوگوں کے سامنے دُنیا ایک اور مقصد لے کر کھڑی ہوگئی ہے حالانکہ وہ کام جس کے لئے اتنی محنت کر رہے اور اتنی مشقت اٹھا رہے ہوتے ہیں، سال یا تو ماہ یا چھ ماہ کے انتظار کا نتیجہ ہوتا ہے۔لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم اُس کام کو کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں جس کے متعلق حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک سب انبیاء خبر دیتے چلے آئے ہیں اور جس کا انتظار سب انبیاء کی جماعتوں کو رہا ہے۔پھر ہم اس بات کا دعویٰ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس جنگ کو فتح کرنے کے لئے مقرر کیا ہے جس جنگ سے تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو ڈراتے چلے آئے ہیں۔اگر واقعہ میں یہ وہی جنگ ہے اور واقعہ میں ہمیں اس جنگ کو فتح کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے تو کیا ہمارے کاموں میں وہی چستی اور ہوشیاری اور سرگرمی پائی جاتی ہے جو اس قسم کی جنگ میں کامیابی کے لئے ضروری ہے؟ اگر نہیں تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے۔یا تو یہ کہ یہ جنگ وہ نہیں ہے جس کی پہلے سے خبر دی جاتی رہی ہے یا پھر ہم اس جنگ کی اہمیت کو نہیں سمجھے اور جب تک ہم خود اپنے کام کی اہمیت کو نہ سمجھیں اُس وقت تک غیروں کو سمجھانے کا ہمیں حق نہیں پہنچتا۔اور پھر یہ امید بھی نہیں کی جاسکتی کہ ایسی صورت میں غیر ہماری باتوں کا کوئی اثر قبول کرے گا۔جماعت احمد یہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے پس میں آج پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری۔کو سمجھے ، اپنے کام کی اہمیت کو سمجھے اور اپنے مقصد کو ہر وقت پیش نظر رکھے۔منہ کی باتیں قطعاً کوئی نفع نہیں دے سکتیں۔ہم منہ کی باتوں سے انسانوں کو خوش کر سکتے ہیں مگر صرف کچھ عرصہ کے لئے کیونکہ کب تک لوگ ہم میں عملی قوت کا فقدان دیکھتے ہوئے ہماری باتوں پر