خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 194
خطابات شوری جلد دوم ۱۹۴ مشاورت ۱۹۳۷ء طاقت کے متعلق تو جو تمہارا فتویٰ تھا وہ لگ گیا ، اب تم جس چیز کو ممکن سمجھتے ہو وہ کرو، اور اس ممکن کو کمال تک پہنچا دو یہاں تک کہ تم سمجھو اب تمہاری تدابیر میں کوئی رخنہ باقی نہیں رہا۔جب حالت یہاں تک پہنچ جائے اور تمہیں میری عمارت نامکمل دکھائی دے، اور اس میں رخنے ہی رخنے نظر آئیں، اور تم اپنی عمارت کو ہر لحاظ سے مکمل کر لو اور اس میں کوئی رخنہ نہ رہنے دو تو پھر میری عمارت اور اپنی عمارت کو ٹکرا دو، اور دیکھو کہ رخنوں والی عمارت بچتی ہے یا بے رخنوں والی۔اب یہاں ایک نبی کے منہ سے اللہ تعالیٰ یہ کہلواتا ہے کہ اگر تم کو میری بات بڑی معلوم ہوتی ہے تو تم اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اس کے مقابلہ میں دشمن کی حالت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ یوں کھینچا ہے۔اِن كَان كَبُرَ عَلَيْكَ إعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أن تَبْتَغِي نَفَقًا في الأرْضِ أَوْ سُلمَّا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بايَةٍ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الهُدى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الجَمِيين " فرماتا ہے اے رسول! اِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إعْراضُهُمُ اگر اُن کا اعراض کرنا تجھے بہت بڑی بات نظر آتی ہے تو تو اس کو بڑی بات مت سمجھ چونکہ عام طور پر مفسرین کے معنے لوگوں کے ذہن میں ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہے میرے معنے سمجھنے ذرا مشکل ہوں۔اس لئے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ مفترین ان آیات کے کیا معنے کیا کرتے ہیں۔مفسرین اس کے یہ معنے کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رسول ! اگر کفار کی مخالفت تجھ کو گراں گزرتی ہے، تو تو اگر آسمان پر چڑھ کر بھاگ سکتا ہے تو بھاگ کر دیکھ لے، زمین سے باہر نکل سکتا ہے تو یہ کر کے دیکھ لے۔غرض جو زور لگانا ہے لگا لے اور دیکھ کہ کیا یہ تجھ سے ممکن ہے؟ مگر یہ معنے بالکل غلط ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو کیا کسی رسول کی نسبت بھی ہم یہ اُمید نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ اُس سے ان الفاظ میں کلام کرے گا۔میرے نزدیک اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ایسی حالت میں جب تمام قسم کے سامان منقطع ہو جاتے ہیں اور بظاہر مایوسی اور نا امیدی چھا جاتی ہے اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مایوسی کو دور کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ رکھا ہوا ہوتا ہے، زمین میں بھی اور آسمان میں بھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن كَان كَبُرَ عَلَيْكَ إعْرَاضُهُمْ