خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 191

خطابات شوری جلد دوم ۱۹۱ مشاورت ۱۹۳۷ء ہے اور ضرور ہے۔اور ایک وہ تو کل ہے جب تم سمجھو کہ کامیابی کی کوئی صورت نہیں اور رخنے ہی رخنے نظر آ رہے ہیں اُس وقت تم کہو کہ خدا اس کام کو کر کے رہے گا ، خواہ چھت بھی نہ رہے اور دیوار میں بھی گر پڑیں۔غرض ایک تو گل کمزوری کی حالت میں ہوتا ہے اور ایک تو کل قوت کی حالت میں ہوتا ہے۔جب یہ دونوں ملتے ہیں تب حقیقی تو کل کا مقام انسان کو حاصل ہوتا ہے مگر عام لوگ ان دونوں کے خلاف چلتے ہیں۔جب وہ کسی کام کو شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے ہی یہ کام کرنا ہے اور ہم اس کو کر کے رہیں گے،صرف سامان چاہئے اور جب سامان نہیں ملتا تو ہمتیں ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ تو کل اِن دونوں حالتوں میں انسان کو الٹ راستے پر چلاتا ہے۔جب کام مکمل ہو جائے تو تو کل کہتا ہے یہ مکمل نہیں اور جب مکمل نہ ہو، تو تو گل کہتا ہے تم کہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مکمل ہو جائے گا۔گویا تو کل ہماری عقل کے بالکل خلاف فتویٰ دیتا ہے۔جب عقل کہتی ہے کہ سامان مکمل نہیں ، تباہی کے سامان بڑی سُرعت سے ہو رہے ہیں، تو تو کل کہتا ہے تم خدا کی طرف دیکھو تمہارا خدائمی بھی ہے اور جب عقل کہتی ہے کہ اب کوئی تباہی کی صورت نہیں، کامیابی کے سب سامان ہمیں حاصل ہیں، تو تو کل کہتا ہے ڈرو کیونکہ خدا صرف نجی نہیں بلکہ میت بھی ہے گویا عقل جب سب کام مکمل کر لیتی ہے تو تو کل کہتا ہے خدا تعالیٰ کی صفت نمیت کو نہ بھولو۔اور جب ہمارے سامان سب رہ جاتے ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب موت اور تباہی آگئی اور مایوسی ہی مایوسی چاروں طرف دکھائی دیتی ہے تو تو کل کہتا ہے کیا خدا می نہیں ؟ گویا جس وقت حیات ناممکن نظر آتی ہے، تو کل کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نجی ہونے کو یاد رکھو، اور جس وقت امانت ناممکن نظر آتی ہے، تو کل کہتا ہے کیا خدا تعالیٰ کی صفت ممیت کو تم بھول گئے؟ ان حالتوں میں جب کبھی تو بندہ سمجھتا ہے کہ خدا ممیت ہے اور وہ بنے بنائے کام کو تباہ کر سکتا ہے اور کبھی یہ سمجھتا ہے کہ خدا محی ہے اور وہ بگڑے ہوئے کاموں کو بھی درست کر سکتا ہے۔کامیابی اور عروج کی حالت میں انسان خدا تعالیٰ کی طرف مُجھکتا اور کہتا ہے خدایا! تیری امانت سے میں پناہ چاہتا ہوں اور تیرے احیاء کو میں طلب کرتا ہوں۔پھر جس وقت وہ سخت مایوسی کی حالت میں ہوتا ہے، سامان اُس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، اُس وقت بھی وہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا اور کہتا ہے