خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 188
خطابات شوری جلد دوم ۱۸۸ مشاورت ۱۹۳۷ء رکھنا چاہئے کہ ایسا تو نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو نظر انداز کر رہا ہوں؟ یا ایسا تو نہیں کہ میں اس کے فضل کو اپنی غفلت اور سستی کا بہانہ بنا رہا ہوں؟ بہر حال مومن کو یہ خانہ خالی رکھنا پڑے گا اور یہ بے ادبی ہو گی اگر وہ اس کو پُر کرنے کی کوشش کرے۔سچا تو کل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک بات میں نے کئی دفعہ سنی ہے، آپ ترکیہ کے سلطان عبد الحمید خان کا جو معزول ہو گئے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے، سلطان عبدالحمید کی ایک بات مجھے بڑی ہی پسند ہے۔جب یونان سے جنگ کا سوال اُٹھا تو وزراء نے بہت عذرات پیش کر دیئے۔دراصل سلطان عبدالحمید کا یہ منشاء تھا کہ جنگ ہو، مگر وزراء کا منشاء نہیں تھا اس لئے انہوں نے بہت سے عذرات پیش کئے اور آخر اُنہوں نے کہا جنگ کے لئے یہ چیز بھی تیار ہے، وہ چیز بھی تیار ہے لیکن چونکہ اُن کا منشاء نہ تھا کہ جنگ ہو اس لئے اُنہوں نے کسی اہم چیز کا ذکر کر کے کہہ دیا کہ فلاں امر کا انتظام نہیں ہے۔مثلاً یوں سمجھ لو کہ انہوں نے کہا ( اور غالباً یہی کہا ہو گا ) کہ تمام یورپین طاقتیں اس وقت اس بات پر متحد ہیں کہ یونان کی امداد کریں اور اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جس وقت وزراء نے یہ بات پیش کی کہ سب کچھ موجود ہے مگر یہ بات نہیں تو سلطان عبدالحمید نے جواب دیا کہ کوئی خانہ تو خدا کے لئے بھی چھوڑنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سلطان عبدالحمید کے اس فقرہ سے بہت ہی لطف اُٹھاتے تھے۔تو مومن کو اپنی کوششوں میں سے ایک خانہ خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ نا ضروری ہوتا ہے۔درحقیقت سچی بات یہ ہے کہ مومن کبھی بھی ایسے موقع پر نہیں پہنچتا، اور دراصل کوئی شخص بھی ایسے موقع پر نہیں پہنچتا ، جس کو اس دُنیا میں کامل موقع کہا جا سکے۔یعنی یہ کہا جا سکے کہ اب کوئی رستہ کمزوری کا باقی نہیں رہا۔فرق صرف یہ ہے کہ مومن سمجھتا ہے ابھی کامیابی کا راستہ ہے، لیکن غیر مومن سمجھتا ہے اب کوئی راہ نہیں۔ڈاکٹر بعض دفعہ کسی مریض کا جب علاج کرتا ہے تو کہتا ہے میں نے ساری تدابیر اختیار کر لیں اب اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں، مگر پھر بھی کوئی صورت نکل آتی ہے اور بیمارا چھا ہو جاتا ہے۔مجھے ہمیشہ اس بات پر حیرت آیا کرتی ہے کہ جب میری مرحومہ بیوی امتہ الحی سخت