خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 186
خطابات شوری جلد دوم ۱۸۶ مشاورت ۱۹۳۷ء کہ اگر محکمہ والوں نے اُن کو بلایا، تو انہیں سخت سزادی جائے گی۔یہ اطلاع کشمیر میں بھی پہنچا دی گئی، اور اب وہ وہاں بڑے آرام سے بیٹھے ہیں اور کوئی بیماری کی اطلاع نہیں آتی۔تو مبلغوں سے کام زیادہ زور سے لینا چاہئے اور محکمہ کو نہیں چاہئے کہ مقررہ میعاد سے پہلے ان کو قادیان آنے دے۔پھر وہ ان سے اُن لائنوں پر کام لے جو میں نے بتائی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر میری ہدایات کے ماتحت کام کیا گیا تو تین ہزار روپیہ کے بجٹ میں سفر خرچ کا گزارہ ہو جائے گا۔میری طرف سے یہ بھی ہدایت ہے کہ ماہوار رپورٹ میرے سامنے پیش کی جایا کرے کہ کرایہ کس طرح خرچ ہو رہا ہے۔اسی طرح تبلیغی مرکزوں کے لئے جو چندہ جمع ہو اُس کے متعلق بھی میرے سامنے ماہوار رپورٹ پیش ہوتی رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں نے ہدایت دی ہوئی ہے کہ قادیان کے ارد گر د تبلیغ پر خاص زور دیا جائے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ خرچ بھی زیادہ کیا جائے۔اگر جو مبلغ مقرر ہوں وہ تھوڑا تھوڑا سفر روزانہ کریں اور پیدل یا دوستوں کی سواریوں پر سفر کریں تو یہ کام بغیر زائد خرچ کے ہو سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں جس احمدی زمیندار کے پاس گھوڑا ہوگا وہ مبلغ کو اگلی جگہ پہنچانے کے لئے بخوشی اپنا گھوڑا پیش کر دے گا۔غرض آخری فیصلہ میرا یہ ہے کہ عام بجٹ میں زیادتی کو میں نامنظور کرتا ہوں لیکن اس کام کے لئے مبلغین کے سفر خرچ کی مد میں سے ڈیڑھ ہزار روپیہ تبلیغی مرکزوں کے قیام کے اخراجات کی مد میں منتقل کرتا ہوں اور پندرہ سو کا خرچ تحریک جدید پر ڈالتا ہوں اور ڈیڑھ یا حد دو ہزار روپیہ تک خاص چندہ کرنے کی محکمہ کو اجازت دیتا ہوں، اس قدر رقم بجٹ خرچ میں مشروط بہ آمد بڑھا دی جائے۔ناظر صاحب دعوت و تبلیغ کو چاہیئے ہر مہینہ یہ رپورٹ کریں کہ انہوں نے اس ماہ میں اس غرض کے لئے کتنا روپیہ جمع کیا ہے۔اگر ایک محکمہ ۳۵ مبلغ رکھ کر بھی چندہ جمع نہ کر سکے ، تو میں تو اُس کو نالائق محکمہ ہی خیال کروں گا۔تیسرا دن مجلس مشاورت کے تیسرے دن یعنی ۲۸ مارچ ۱۹۳۷ء کو تلاوت قرآن کریم کے