خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 185

خطابات شوری جلد دوم ۱۸۵ مشاورت ۱۹۳۷ء عمر میں کام کر سکتے اور لوگوں سے چندہ وصول کر سکتے تھے تو ہمارے ناظر تو جوان ہیں اور لوگوں میں کام کرنے کا جوش بھی ہے ، وہ کیوں ڈیڑھ دو ہزار روپیہ سالانہ اکٹھا نہیں کرسکیں گے۔اگر نظارت کے عملہ کا کوئی آدمی مہمان خانہ میں ہی مقرر کر دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ جو مہمان آئے اُس سے وہ کہے کہ ایک آنہ چندہ اس غرض کے لئے دے تو اس طرح بھی سال میں بہت سی رقم جمع ہو سکتی ہے۔بلکہ اگر جلسہ سالانہ پر لوگوں سے وہ پیسہ پیسہ بھی وصول کریں تو بڑی رقم اکٹھی کر لیں۔جب وہ پیسہ چندہ مانگیں گے تو ضروری نہیں کہ ہر شخص پیسہ ہی دے کوئی آنہ دے دے گا، کوئی روپیہ اور کوئی دو روپے۔پس ان تین ہزار روپیہ کے علاوہ جو خرچ ہو وہ اپنی ذاتی کوشش سے پورا کریں۔غرض ایک مرکز وہ تحریک جدید کو دے دیں اور پندرہ سو روپیہ سفر خرچ کی مد سے اس مد میں منتقل کر لیا جائے ، اور باقی ڈیڑھ دو ہزار جماعت کے دوستوں سے چندہ کرلیں۔میں پھر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں نظارت دعوۃ و تبلیغ کے اس غذر کو ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ لوگ چندہ دیتے نہیں۔اگر وہ ہوشیاری سے چندہ جمع کریں تو چند شہروں سے ہی یہ رقم جمع کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ دفتری کارروائی کریں تو دفتری کارروائیوں سے کچھ نہیں بنتا، لوگ بھی اس کے جواب میں دفتری کا رروائی کر دیتے ہیں۔پس تبلیغی مرکزوں کے قیام کی جو اہمیت ہے وہ میں نے بتادی ہے۔یہ دراصل نہایت ہی اہم سوال ہے، اور ہمیں ان مرکزوں کو کبھی نہیں چھوڑ نا چاہئے۔پشاور، کراچی، بمبئی، کلکتہ اور دہلی یہ پانچ اہم مرکز ہیں۔ان کے علاوہ رنگون بھی ایک ضروری مرکز ہے جہاں ہمارا آدمی مقرر ہے لیکن ضروری ہے کہ ان ہدایتوں کو مد نظر رکھ کر تبلیغ کی جائے جو میں نے دی ہیں اور دو دو، تین تین سال کے بعد مبلغوں کو قادیان بُلا نا چاہئے۔اس کے علاوہ جب بھی آئیں، چھٹی لے کر آئیں اور اپنے کرایہ پر آئیں اور اگر اس کے بغیر یہاں آئیں تو اُنہیں فوراً ڈسمس کر دیا جائے۔یہ عجیب بات ہے کہ دنیوی باتوں میں تو ان باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن دین کے معاملہ میں کوئی پابندی نہیں کی جاتی۔کشمیر میں میں نے مبلغ مقرر کئے ، تو جونہی وہاں سردی شروع ہوئی ، جھٹ اطلاعیں آنے لگ گئیں کہ ہماری بیوی بیمار ہے، ہم خود بیمار ہو گئے ہیں، ہمیں آنے کی اجازت دی جائے۔مجھے پتہ لگا تو میں نے کہا