خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 184
خطابات شوری جلد دوم ۱۸۴ مشاورت ۱۹۳۷ء حد تک ہم بجٹ کو بڑھانے سے بچ سکیں ہمیں بچنا چاہئے لیکن ساتھ ہی اس سکیم کو بھی نہیں چھوڑا جا سکتا۔پس اس کا خرچ نکالنے کے لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میری اوپر کی بتائی ہوئی تجویز کے مطابق مبلغوں کے سفروں کو کم کیا جائے اور مختلف علاقوں میں اُن کے لئے مرکز قائم کئے جائیں اور اس طرح سفر خرچ سے پندرہ سو روپیہ بچایا جائے جو ان نئے مرکزوں پر خرچ کیا جائے۔دو ہزار نظارت دعوت جماعت سے اس غرض سے خود جمع کرے اور پندرہ سو کی رقم مذکورہ بالا شرط کے ماتحت تحریک جدید سے خرچ کی جائے۔چندہ بڑھانے کا طریق : میں یہ بالکل نہیں سمجھ سکا کہ صدر انجمن احمدیہ کی پیش کردہ تجویز میں جو دو ہزار کی رقم تبلیغی مرکزوں کے لئے طلب کی گئی تھی وہ کس طرح اس کام کے لئے کافی ہو سکتی تھی۔میرے نزدیک تو ساڑھے چار ہزار کی رقم جس کی سب کمیٹی نے سفارش کی ہے وہ بھی اس کے لئے ناکافی ہے ،مگر اس سے کام شروع کیا جا سکتا ہے۔بمبئی اور کلکتہ میں تبلیغی مرکز قائم کرنے کے لئے مکان لینا بھی بہت سا خرچ چاہتا ہے وہاں اگر اچھا سا مکان لیا جائے تو اُس پر ستر اسی روپے ماہوار کرا یہ ہی خرچ ہو جائے گا۔پس ساڑھے چار ہزار سے کم میں یہ سکیم کسی طرح شروع نہیں کی جاسکتی۔جس رقم کا میں نے تحریک کی طرف سے وعدہ کیا ہے اس کے متعلق میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ کراچی کا مرکز دعوت و تبلیغ تحریک جدید کے سپرد کر دیا جائے۔وہاں کے اخراجات تحریک جدید برداشت کرے گی اور دوسرے مراکز کے اخراجات صدر انجمن کی امداد اور خاص چندہ سے پورے کئے جائیں۔خاص چندہ کے بارہ میں نظارت کو چاہئے کہ وہ خود بھی کوشش کرے، اور اپنے مبلغوں کو بھی ہدایت دے کہ وہ نسبتاً آسودہ حال لوگوں سے ان مرکزوں کے قیام اور اُن کے اخراجات کے لئے چندہ وصول کریں اور یہ یا درکھیں کہ اس چندہ کی فراہمی بیت المال پر ہرگز نہ ہوگی بلکہ گلی طور پر نظارت دعوت پر ہوگی اور یہ کوئی مشکل کام نہیں، نیک نیتی اور عزم چاہئے۔ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم چھ چھ سات سات ہزار روپیہ سالانہ بغیر عام لوگوں کو پتہ لگنے کے چندہ اکٹھا کر لیا کرتے تھے۔بعض لوگ انہیں زیادہ چندہ دیتے ، تو وہ مجبور کرتے کہ تھوڑا دو، کیونکہ میں نے پھر بھی چندہ مانگنے آنا ہے۔اس طرح اُنہوں نے ہزاروں روپے کی عمارتیں کھڑی کر دیں۔اگر نانا جان مرحوم ساٹھ ستر سال کی