خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 182

مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم ۱۸۲ نے قرآن کریم نعوذ باللہ خود بنایا تھا اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کیا تھا۔یہ تقریر اخباروں میں شائع ہوئی اور اتفاقاً ایک احمدی جو سیر کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے، انہوں نے اسے دیکھا اور اُس کی کٹنگ مجھے بھجوا دی۔تو جہاں حکومت جبر آلوگوں کو اسلام کے خلاف چلنے پر مجبور کرتی ہو، جہاں طالب علموں کے کورسوں میں ایسے مضامین رکھے جاتے ہوں جو اسلام کے خلاف ہوں ، جہاں علی الاعلان کہا جاتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تعلیم پیش کی وہ تیرہ سو سال پہلے کے لئے تھی، آج دنیا اس پر عمل نہیں کر سکتی ، وہاں کی تبلیغ کتنی اہم چیز ہے۔اور اگر ہم ان ملکوں کو چھوڑ دیں تو کتنا خطرناک زہر پیدا ہوتا رہے گا جو یکدم تمام اسلامی زندگی کو برباد کر دے گا اگر ہم ان باتوں کو نظر انداز کر دیں تو کون شخص ہمیں عقلمند کہہ سکتا ہے۔پس ہمیں صرف اپنی ہی ضرورتوں کو مدنظر نہیں رکھنا چاہئے بلکہ اُن وسیع ضرورتوں، وسیع تغیرات اور وسیع آلام کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے ، جو مختلف اسلامی ممالک میں پیدا ہو رہے ہیں اور جن کے ازالہ کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ ہم اپنے آدمی کراچی میں رکھیں۔وہاں ایران، عراق اور مشرقی عرب کے لوگ آتے رہتے ہیں۔اگر ہم ان لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت پیدا کریں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ پیدا کریں ، اسلام کی خوبیاں اُن پر ظاہر کریں اور مغربی تعلیم سے جہاں اسلامی تعلیم کا تصادم ہوتا ہے اُس تصادم کے نتائج انہیں بتائیں اور سمجھائیں کہ کس طرح یورپ کے لوگ ٹھوکریں کھا کھا کر اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں اور پھر انہیں کہیں کہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جن باتوں کو یورپ ایک لمبے تجربہ کے بعد چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے، انہیں باتوں کو آپ کے ملک میں اختیار کیا جا رہا ہے تو آہستہ آہستہ ہماری چلائی ہوئی رو ان ممالک کے جوانوں اور بوڑھوں کے دلوں پر اثر کرتی جائے گی۔یہاں تک کہ کچھ قلوب اس بات کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ جب بھی ہمارا مبلغ اُن کے علاقہ میں پہنچے وہ اُس کے گرد جمع ہو جائیں اور اُسی رو کو جس سے وہ متاثر ہوئے باقی لوگوں میں بھی پھیلائیں۔پس ہماری ان کوششوں کا جو خواہ کس قدر معمولی ہوں یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ ان ممالک میں اسلام کی محبت کا خیال زندہ رہے گا اور جب حقیقی اسلام کی رُوح قائم رہے