خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 177

خطابات شوری جلد دوم 122 مشاورت ۱۹۳۷ء سُنا گیا ہے کہ دہلی کے ایک تاجر نے انہیں چھ ہزار روپیہ دیا کہ وہ قادیان میں مسجد وغیرہ بنوائیں۔اب یہ تاجروں کا جو طبقہ ہے اُن تک اپنی تبلیغ پہنچانا ہمارے لئے بڑا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ تاجر کو تاجر ہی تبلیغ کر سکتا ہے، اور تاجر احمدی کم ہیں۔ایک ملازمت پیشہ احمدی آخر کلرکوں تک ہی پہنچ سکتا ہے اور زمیندار زمینداروں تک پہنچ سکتا ہے لیکن بڑے تاجروں تک ان میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا اور اس طرح تاجر ہمارے خلاف بطور جماعت کھڑے رہتے ہیں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے مقامات میں اپنے تبلیغی مرکز قائم کریں جہاں مسلمان تاجر ہوں اور وہ مقامات کراچی، کلکتہ اور بمبئی ہیں۔بمبئی میں مسلمان تاجر زیادہ ہیں اس کے بعد کلکتہ میں اور کلکتہ کے بعد کراچی میں۔یہ تین تجارتی شہر ہیں اور بڑی تجارت کے لحاظ سے پشاور نہایت اہم مقام ہے اور مرکزی تجارت کے لحاظ سے دہکی بھی ایسا مقام ہے جہاں تجارت کثرت سے ہوتی ہے اگر ہم ان مرکزوں میں اپنے آدمی مقرر کر دیں اور خصوصیت سے تاجروں پر زور دیں تو بہت حد تک ہمیں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ تاجروں کے لئے ایک مشکل بھی ہے اور وہ یہ کہ تاجر کولوگوں کی خوشنودی مد نظر رکھنی پڑتی ہے، اور اُسے گاہک کے خراب ہونے کا اندیشہ لگا رہتا ہے اسی وجہ سے جب تک تاجروں کا ایک جتھہ نہ ہو تاجر کے لئے آگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔تاجر بے شک دل میں مان جائے گا مگر کہے گا اگر میں اظہار کروں تو میرا گا ہک خراب ہوگا اور اگر اکیلا تاجر مخالفت کی پرواہ نہ کرے تو سخت خطرہ ہوتا ہے کہ اُس کی تجارت کو سخت نقصان پہنچ جائے۔پس ضرورت ہے کہ جلد سے جلد اس طرف توجہ کی جائے۔اس میں جتنی زیادہ دیر لگے گی اُتنا ہی زیادہ ہمارا کام پیچھے ہوتا چلا جائے گا۔میں متواتر تین سال سے زور دے رہا ہوں کہ مبلغوں کو ان جگہوں میں جمع کرو اور تاجروں میں تبلیغ کرو لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا گیا۔میرے نزدیک اسی نقطہ کو نظر انداز کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ جب زمیندار اور ملازم پیشہ لوگ اقتصادی بدحالی میں مبتلا ہوتے ہیں، تاجروں کی عدم موجودگی ہمارے بجٹ کو سخت نقصان پہنچا دیتی ہے، پھر اس کا یہ بھی اثر ہے کہ ہندوستان کا ایک حصہ ایسا ہے جو تبلیغ