خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 174
خطابات شوری جلد دوم ۱۷۴ مشاورت ۱۹۳۷ء خرچ بچانے کا طریق پس مبلغوں کے لئے اول بیر ونجات میں مرکز مقرر کئے جائیں اور پھر یہ ہدایت کی جائے کہ وہ سال دو سال مسلسل اپنے مرکز میں ٹھہریں اگر درد صاحب لنڈن میں پانچ سال رہ سکتے ہیں اور اُن کے ایمان میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہو سکتا تو ہم یہ کیوں فرض کر لیں کہ ہمارا کلکتہ کا مبلغ اگر جلسہ سالانہ پر قادیان نہ پہنچا تو اُس کے ایمان میں خلل آجائے گا۔اگر ہم سال میں ایک دفعہ بھی کلکتہ سے اپنا مبلغ بلائیں تو پچاس ساٹھ روپے کا خرچ آ جاتا ہے۔اور یہی خرچ اگر لٹریچر کی اشاعت پر کیا جائے تو اس سے بہت کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔پس جو کام لینے کا طریق ہے اُس کے مطابق مبلغوں سے ہرگز کام نہیں لیا جاتا اور میرے نزدیک تقسیم عمل ایسے غلط طور پر کی جاتی ہے کہ مبلغوں کے آنے جانے پر ہی بہت سا کرایہ خرچ ہو جاتا ہے۔اگر تمام مبلغوں کو باہر اپنے اپنے مرکزوں میں رکھا جائے اور صرف ایک دو مبلغ یہاں ایسے رکھے جائیں جو اشد ضرورت کے موقع پر کام دے سکیں تو بیرونی جماعتوں کو مرکز سے مبلغین منگوانے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہو۔مثلاً اگر جہلم میں کسی مبلغ کی ضرورت ہے اور گجرات میں ہمارا ایک مبلغ موجود ہو تو جہلم کی جماعت قادیان سے کیوں مبلغ منگوائے گی وہ گجرات سے ہی مبلغ منگوا سکتی ہے اور اس طرح اُس کا خرچ بھی کچھ زیادہ نہیں ہوگا۔زیادہ سے زیادہ پانچ چھ آنے خرچ ہو جائیں گے لیکن اگر ہم قادیان سے مبلغ بھیجیں تو کم سے کم دورو پے خرچ ہوں گے۔اب آنے جانے کا خرچ دس بارہ آنہ دینا جماعت کو دو بھر معلوم نہیں ہوسکتا لیکن آمد و رفت کے خرچ کے لئے پانچ چھ روپے دینا ضرور دو بھر معلوم ہوگا۔پس اگر مبلغوں کے لئے باہر مرکز مقرر کر دیئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ جماعتیں قادیان سے مبلغ منگوائیں۔وہ یہاں سے مبلغ منگوانے کی بجائے اپنے سے قریب ترین مرکز سے مبلغ منگوا سکتی ہیں۔مگر اس قسم کے دورے بھی اشد ضرورت پر ہونے چاہئیں۔زیادہ تر مبلغوں کا کام یہی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں دورے کریں اور تبلیغ کرتے پھریں۔یہ نہ ہو کہ جہاں شور ہو وہاں چلے جائیں بلکہ ہر جگہ جائیں اور لوگوں کو تبلیغ کریں۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لمبے عرصہ تک ایک جگہ رہنے کی وجہ سے انہیں اپنے بیوی بچوں کو بھی وہیں رکھنا پڑے گا اور چونکہ گاؤں میں اخراجات کم ہوتے ہیں اس لحاظ سے بھی اُنہیں فائدہ رہے گا۔گورنمنٹ آخر اپنے ملازمین