خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 173
خطابات شوری جلد دوم ۱۷۳ مشاورت ۱۹۳۷ء کے لوگ آپس میں ملتے رہتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرانے کا زیادہ شوق رکھتے ہیں ، لیکن شہری ایک دوسرے سے بہت کم ملتے ہیں۔اب بالعموم ایسا ہوتا ہے کہ مبلغ کسی شہر میں جا کر ڈیرہ لگا دیتا ہے، اور مبلغ یہ شکایت کرتا ہے کہ مجھ سے لوگ کام نہیں لیتے ، اور وہ یہ شکایت کرتے ہیں کہ مبلغ کام نہیں کرتا۔اصل میں دونوں طرف سے کچھ کچھ مستی ہوتی ہے اور وہ دوستیاں مل کر ایک بھاری سستی بن جاتی ہے۔پس بجائے اس کے کہ مبلغوں کا مرکز کسی شہر کو بنایا جائے اُن کا مرکز دیہات کو بنانا چاہئے اور دورے بہت ہی محدود کر دینے چاہئیں اور اگر انہیں سفر کرنا بھی پڑے تو پیدل جائیں یا زیادہ سے زیادہ گاؤں سے کسی سواری کا انتظام کر لیں۔گاؤں والوں کے پاس پالعموم گھوڑے ہوتے ہیں اور وہ مہمان نواز بھی ہوتے ہیں۔پس اگر گھوڑوں کے ذریعہ سفر کیا جائے یا اگر گھوڑے نہ ہوں تو پیدل کیا جائے تو سفر خرچ کے اخراجات بہت حد تک بچ سکتے ہیں۔اب بجٹ میں سفر خرچ کی مد میں ساڑھے چار ہزار روپیہ رکھا گیا ہے لیکن اگر دفتر والے کوشش کریں اور مبلغین کے دوروں کو محدود کر کے سفر خرچ کو اڑھائی ہزار روپیہ پر لے آئیں ، تو اسی مد میں سے دو ہزار روپے وہ نے تبلیغی مرکزوں کے لئے نکال سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری بات یہ ہے کہ مبلغین کا مرکز قادیان نہ رکھا جائے بلکہ باہر کے کسی گاؤں کو رکھا جائے۔مثلاً گجرات میں کھاریاں ہے، یہاں اچھی جماعت ہے اگر کسی مبلغ کا مرکز کھاریاں بنا دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ جب اُسے اردگرد تبلیغ کے لئے جانا پڑے تو پیدل جائے ، تو کیا وجہ ہے کہ وہ پیدل نہ جا سکے اور ضرور ریل پر ہی سفر کرے۔زمیندار ہمیشہ مہمان نواز ہوتے ہیں۔یہ تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اُن کے پاس سواری کے لئے گھوڑے نہیں ہوں گے۔میں نے تو دیکھا ہے ہم جب دریا پر جاتے ہیں تو گاؤں والے بعض دفعہ دس دس گھوڑے مہیا کر دیتے ہیں۔گو بعض دفعہ کرایہ بھی دینا پڑتا ہے لیکن اکثر وہ مفت گھوڑے پیش کرتے ہیں۔تو کسی نہ کسی زمیندار کے پاس گھوڑا ہوتا ہے۔ایسے موقع پر اگر گھوڑا لیں اور سوار ہو کر تبلیغ کے لئے نکل جائیں تو یہ بہت زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔میں نے دیکھا ہے گاؤں میں اگر اس قسم کا دورہ کیا جائے تو بعض دفعہ ایک ایک دورہ کے نتیجہ میں دس دس پندرہ پندرہ بیس ہیں آدمی ایمان لے آتے ہیں۔