خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 172

خطابات شوری جلد دوم ۱۷۲ مشاورت ۱۹۳۷ء مجلس شوری کے موقع پر قادیان آتے ہیں اور اپریل مئی تک یہیں رہتے ہیں۔پھر بعض دفعہ کوئی رپورٹ دینے کے لئے باہر سے مبلغ آجاتا ہے اور کئی کئی دن یہاں رہتا ہے۔بہت شاذ کوئی ایسی مثال ہوگی کہ کوئی مبلغ رپورٹ دینے آیا ہو اور وہ رپورٹ دینے کے معا بعد چلا گیا ہو بلکہ یہی نظر آتا ہے کہ رپورٹ دینے آتے ہیں اور آٹھ آٹھ دس دس دن یہاں رہتے ہیں اور یہ کام کے دن سمجھے جاتے ہیں، چھٹی کے نہیں سمجھے جاتے۔میرا اپنا اندازہ یہی ہے کہ وہ قادیان میں تین مہینے سے زائد رہتے ہیں اور بیرونجات میں جو کام کرتے ہیں اُس میں بھی چھ مہینے ضائع کر دیتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ سال میں تین مہینے کام کرتے ہیں۔چونکہ مبلغین کے دوروں کا نقشہ میرے سامنے نہیں اس لئے یہ صرف میرا ذہنی نقشہ ہے اور اس کے مطابق میں خیال کرتا ہوں کہ مبلغوں کے 9 مہینے ضائع جاتے ہیں۔اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہے کہ مبلغین کو اکثر پنجاب کے اضلاع میں پھیلا یا جاتا ہے اور پھر اس بے ترتیبی سے اور بے توجہی سے کام لیا جاتا ہے کہ اُن کا بہت سا وقت ضائع جاتا ہے۔میری رائے میں ہم آئندہ کے لئے اس امر کو تو ترک نہیں کر سکتے کہ ہر سال تین نئے مبلغ لئے جائیں لیکن اُن کا سفر بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔پس میرے نزدیک آئندہ کے لئے مبلغین کے سفر کو بہت کم کیا جائے ، اور اُن کا مرکز بجائے قادیان رکھنے کے باہر کے کسی شہر یا گاؤں کو رکھا جائے۔میں نے اس کے متعلق تفصیلی ہدایات دفتر کو دی ہوئی ہیں ، گوان ہدایات پر عمل نہ پہلے ہوا ہے اور نہ اب ہو رہا ہے لیکن میں عنقریب مبلغین کو اس طرز پر پھیلانے پر دفتر کو مجبور کروں گا جس طرز پر پھیلانا میرے نزدیک مفید ثابت ہو سکتا ہے۔اب بہت بڑا نقص یہ ہے کہ چونکہ مرکز ہی قادیان رکھا گیا ہے اس لئے مبلغ اپنے بیوی بچوں کو یہاں رکھتے ہیں اور چونکہ ان کا گھر یہاں ہوتا ہے اس لئے اکثر وہ قادیان میں آتے رہتے ہیں۔اگر اُن کا مرکز قادیان کی بجائے باہر کسی جگہ کو بنایا جائے ، تو اس نقص کا کسی حد تک ازالہ ہوسکتا ہے۔۔میرے نزدیک یہ بھی غلط ہے کہ ہمیشہ شہروں کو مرکز بنایا جائے ، بلکہ اگر کسی گاؤں کو رکز بنایا جائے تو یہ زیادہ مفید ہو گا۔مثلاً سیالکوٹ کا مبلغ بجائے سیالکوٹ شہر میں رہنے کے اگر کسی ایسے گاؤں میں رہے جہاں احمدی زیادہ ہوں تو تبلیغ زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ گاؤں