خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 157

خطابات شوری جلد دوم ۱۵۷ مشاورت ۱۹۳۷ء اور جو عقل علم کے تابع نہ ہو وہ عقل نہیں بلکہ جہالت ہوتی ہے۔پس چونکہ عقل علم کے تابع ہے اور علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس لئے اس کے حصول میں کسی کی ذاتی خوبی نہیں ہوتی۔پس ہمارے لئے یہ کوئی فخر کی بات نہیں کہ اپنی عقل پر ناز کریں اور دوسرے کی بے عقلی پر تمسخر اُڑائیں اور نہ یہ ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم معمولی باتوں میں جن میں تیزی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی تیز ہو جائیں اور ایسے فقرے استعمال کرنا شروع کر دیں جیسے ” میری تو سمجھ میں نہیں آتا فلاں دوست نے فلاں خلاف عقل بات کس طرح پیش کر دی۔“ اگر کسی کو کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی اور وہ دوسرے کو اُس کی غلطی سے آگاہ کرنا چاہتا ہے، تو اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ اُس مجلس میں جہاں خلیفہ موجود ہو، دوسرے کو سبق دینا اور سکھا نا خلیفہ کا کام ہے دوسرے کا کام نہیں۔جب تم مدرسوں اور کالجوں میں پڑھا کرتے تھے تو کیا اسی طرح کرتے تھے کہ اُستاد کی موجودگی میں اپنے ساتھی کی غلطی پر اُسے ڈانٹنا شروع کر دیتے تھے؟ یا اُستاد کا کام سمجھتے تھے کہ وہ غلطی پر آگاہ کرے اور اگر ڈانٹنا چاہے تو وہی ڈانٹے ؟ ہر شخص جانتا ہے کہ اُستاد کی موجودگی میں اُستاد کا ہی کام ہوتا ہے کہ وہ غلطیوں کی طرف توجہ دلائے شاگردوں کا کام نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے جھگڑنے لگ جائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ احباب اس امر کو آئندہ مدنظر رکھیں گے اور جب کسی دوسرے کی بات کو رڈ کرنا چاہیں گے تو اصولی طور پر کریں گے، ذاتیات کو درمیان میں نہیں لائیں گے اور نہ ایسے رنگ میں تردید کریں گے جس میں دوسرے کی تحقیر اور تذلیل ہو۔وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میری تو سمجھ میں نہیں آتا یہ بات فلاں نے کس طرح کہہ دی۔جب وہ یہ کہہ رہا ہوتا تو بسا اوقات میرے نزدیک وہ غلطی پر ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کی وہ رائے تو صحیح ہوتی ہے لیکن دوسرے وقت وہ بھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جو غلط ہوتی ہے۔پس ہر شخص کو اپنا اپنا مقام سمجھنا چاہئے۔مشیر کا کام یہ ہے کہ وہ مشیر کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھے ، شاگرد کا یہ کام ہے کہ وہ شاگر د ہونے کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھے ، بھائی کا یہ کام ہے کہ وہ بھائی ہونے کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھے ، اور باپ کا یہ کام ہے کہ وہ باپ ہونے کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھے۔اگر کوئی بھائی ہونے کے باوجود باپ کا مقام اختیار کرنا چاہتا ہے یا شاگر داستاد کا مقام اختیار کرنا چاہتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ فتنہ ہو گا اور فساد ہے