خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 145

خطابات شوری جلد دوم ۱۴۵ مشاورت ۱۹۳۷ء تحفہ آئے گی۔یا اگر وہ چاولوں کا تاجر ہے اور اُس نے ہمیں تھیں من چاول تحفہ کے طور پر بھجوا دیئے ہوں تو تم گھر آ کر کہتے ہو بیوی ! اب کے فراغت ہو گئی چاول اس سال ہم نہیں خریدیں گے کیونکہ فلاں دوست تحفہ اتنے من چاول بھیجنے والا ہے۔غرض تم فوراً اُس کے لئے تیاری شروع کر دیتے ہو اور اگر سامان زیادہ ہو تو اُس کو رکھوانے کے لئے کمرہ خالی کرا دیتے ہولیکن اس کے مقابلہ میں جب تمہیں کوئی پاگل ملتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تحفہ گوشت بھیج رہا ہوں تو آپ کہہ دیتے ہیں شکریہ شکریہ! اور اس کی بات کو کچھ اہمیت نہیں دیتے لیکن جو عظمند دوست ہوتا ہے اس کی بات سُن کر معا تیاری شروع کر دیتے ہیں۔اس مثال کے مطابق اب آپ لوگ خدا تعالیٰ کے وعدوں اور اپنی تیاریوں کو دیکھیں۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ وہ آپ کو فتوحات اور کامیابیاں عطا فرمائے گا۔اب آپ خود ہی اپنے حالات کو دیکھیں کہ کیا کامیابی کی دُلہن لانے کے لئے آپ نے اُسی قسم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جس قسم کی تیاریاں کرنی چاہئیں؟ یا خدا تعالیٰ کی بات کو آپ نے ایک پاگل کی بڑ جیسا سمجھا ہے اور اُس کے مطابق کوئی تیاری نہیں کی؟ اگر کامیابی کی دُلہن کے استقبال کے لئے آپ لوگوں نے تیاری کی ہے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ لوگ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اگر تیاری نہیں کی تو یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی بات کو نعوذ باللہ ایک پاگل اور مجنون کی بڑ سمجھا۔دنیا میں چھوٹی چھوٹی انجمنیں اور سوسائٹیاں جس انہماک سے کام کرتی ہیں اُسی کو دیکھ لو۔بوائے سکاؤٹس کی تحریک دیکھو، ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشنز کی تحریک دیکھو، کس سرگرمی سے ان تحریکات سے دلچسپی رکھنے والوں نے کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔پھر جرمن کے نازیوں کو دیکھو کہ باوجود اس کے کہ وہ نہایت قلیل تھے جب اُنہوں نے سمجھا کہ اُن کے ہاتھوں میں فتوحات آنے والی ہیں، اُنہوں نے اُن فتوحات کے مطابق قربانیاں کیں اور کامیابی حاصل کی۔اٹلی کے فاسٹ (FASCIST) یقین رکھتے تھے کہ اُن کے ذریعہ دُنیا میں تغیرات ہونے والے ہیں اور اُنہوں نے اپنے اعمال سے ثابت کر دیا کہ وہ اُن تغیرات کو پیدا کرنے کے اہل تھے۔لیکن ہماری جماعت کے افراد کا یہ حال ہے کہ اکثر چندوں کی باقاعدہ ادا ئیگی میں ہی سستی دکھا دیتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ چندے نہیں