خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 141

خطابات شوری جلد دوم ۱۴۱ مشاورت ۱۹۳۷ء گئے ہیں۔مثلاً ایک کمرہ آج باغیوں کے پاس ہے حکومت نے اُس کمرہ کیلئے لڑائی کی اور لڑائی جاری رکھی یہاں تک کہ اُسے اپنے قبضے میں کر لیا۔پھر دوسرے کمرہ پر لڑائی ہوئی اور پھر تیسرے پر یہاں تک کہ پندرہ پندرہ دن میں ایک ایک عمارت فتح ہوئی ہے اور نہ صرف ایک ایک کمرہ پر بلکہ ایک ایک دروازہ اور ایک ایک کھڑکی اور ایک ایک روشندان پر لڑائی ہوئی ہے۔پھر کیا تم سمجھتے ہو شیطان اتنی بھی ہم سے لڑائی نہیں کرے گا جتنی اس وقت سپین میں ہو رہی ہے؟ یقیناً وہ اس سے زیادہ لڑائی کرے گا اور اس سے زیادہ مشکلات پیدا کرے گا۔اور وہ کئی کئی ناموں، کئی کئی اصطلاحوں اور کئی کئی تفصیلوں سے دھوکا دینا چاہے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ یہی اسلام ہے حالانکہ وہ اسلام نہیں ہو گا۔پس مت خیال کرو کہ تمہارا محض احمدی ہو جانا اور عقائد میں تبدیلی اختیار کر لینا کافی ہے۔بعثت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غرض حضرت حج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض یہ ہے کہ ہم دُنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کریں پس ہم نے دُنیا میں ایک تبدیلی پیدا کرنی ہے ایک بربادی اور تباہی ڈالنی ہے اور پھر اُس بربادی اور تباہی کے بعد ایک نئی عمارت تعمیر کرنی ہے۔گویا پہلی عمارتوں کو مٹانا اور نئی عمارتوں کو اُستوار کرنا ہے۔یہ کام کوئی معمولی کام نہیں۔اس کام کے لئے جس بیداری ، جس ایثار ، جس قربانی اور جس سمجھ کی ضرورت ہے اُس کا اندازہ لگانا بھی انسانی سمجھ سے بالا ہے۔اور گو اس کی اہمیت کو پورے طور پر سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن بہر حال ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم سمجھیں اور جس حد تک اس کا احساس اپنے دلوں میں پیدا کر سکتے ہیں، اُس حد تک احساس پیدا کریں۔میں اس وقت یہ اقرار کرنے کے لئے تیار ہوں کہ جس دن میں خلیفہ ہوا تھا، اُس دن اِس اہمیت کا میں دسواں حصہ بھی نہیں سمجھا تھا جو آج سلسلہ کی سمجھ رہا ہوں۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ مستقبل کا کما حقہ اندازہ کریں۔یہ بے شک ایک ناممکن کام ہوگا لیکن بہر حال کچھ نہ کچھ اندازہ ہونا چاہئے اور کچھ نہ کچھ حدود ہمارے سامنے ہونی چاہئیں گو تفصیلات کا ہم احاطہ نہ کر سکتے ہوں۔ایک احمدی کا فرض میں دیکھتا ہوں اس نقص کی وجہ سے ہمارے کاموں میں ایک قسم کی سستی اور غفلت پائی جاتی ہے اور بہت سے احمدی ایسے ہیں