خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 135

خطابات شوری جلد دوم ۱۳۵ مشاورت ۱۹۳۷ء جبلہ کا ایک واقعہ جلہ بن الا یھم غستانی شام کا مشہور رئیس بلکہ اپنے علاقہ کا بادشاہ تھا جو اپنی قوم کے ساٹھ ہزار عیسائیوں کو لے کر مسلمان ہو گیا۔ایک دفعہ اُس کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ حج کر آؤں۔دراصل اُسے اسلام سے کوئی واقفیت نہ تھی وہ صرف شوکتِ اسلام کو دیکھ کر ایمان لے آیا تھا ایمان کی حقیقت سے واقف نہیں تھا۔حج کے لئے مکہ پہنچا تو اُس نے ایک بڑا سا لمبا جبہ پہنا ہوا تھا جس طرح آجکل عزت کا معیار یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوٹ چھوٹا ہو اور جتنا زیادہ کوئی شخص اپنے آپ کو معززسمجھتا ہے اُتنا ہی وہ کوٹ چھوٹا کر لیتا ہے۔اسی طرح اُس زمانہ میں عزت کا معیار یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوٹ لمبا ہو اور جتنا زیادہ کوئی شخص اپنے آپ کو معزز سمجھتا تھا اُتنا ہی زیادہ وہ کوٹ لمبا بنالیتا تھا اسی کے مطابق وہ بھی ایک لمبا سا جبہ پہن کر آیا۔ایک جگہ وہ جبہ پھیلا کر یوں بیٹھا ہوا تھا جیسے مرغی اپنے پر پھیلا کر بیٹھتی ہے کہ اتفاقاً ایک غریب مسلمان پاس سے گزرا اور اُس کا پیر اُس کے جبہ پر پڑ گیا۔جبلہ نے دیکھا تو زور سے اُسے ایک مکہ مارا اور کہا شرم نہیں آتی تیرے جیسا ر ذیل آدمی میرے جبہ پر اپنا پاؤں رکھتا ہے۔خیر وہ مسلمان تو چلا گیا لیکن کسی اور نے اُسے کہا کہ تو نے یہ سخت بُری حرکت کی ہے۔اگر عمر (رضی اللہ عنہ ) کو پتہ لگ گیا تو وہ تجھے سزا دیئے بغیر نہیں رہیں گے۔وہ کہنے لگا کیا جبلہ کو بھی سزا دی جا سکتی ہے؟ اس مسلمان نے جواب دیا کہ اسلام نے جو قانون مقرر کیا ہے وہ سب کے لئے ہے امیر اور غریب کا اِس میں کوئی فرق نہیں۔جبلہ کہنے لگا میں تو بادشاہ ہوں کیا میرے لئے بھی رعایت نہ ہوگی؟ اُس نے کہا اسلام کا قانون سب کے لئے ہے بادشاہ بھی اُس سے مستثنیٰ نہیں ہوتے۔چونکہ یہ گفتگو سُن کر اُس کے دل میں کچھ خلش سی پیدا ہو گئی تھی۔وہ تھوڑی دیر کے بعد خود ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا کہ پوچھے تو سہی بات کیا ہے۔چنانچہ حضرت عمر سے کہنے لگا اگر کوئی بڑا آدمی چھوٹے آدمی کو تھپڑ مار دے تو آیا اُس کی بھی کچھ سزا ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا جبلہ! کہیں تو نے تو ایسی حرکت نہیں کی؟ یا درکھ اگر تُو نے کسی غریب مسلمان کو مارا ہے تو اس کی سزا میں تجھے ضرور دوں گا۔جبلہ کہنے لگا میں نے تو صرف ایک بات پوچھی ہے خود تو کسی کو نہیں مارا۔یہ کہہ کر وہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے باہر نکلا اور اپنی قوم کو لے کر چلا گیا اور پھر عیسائی لشکر کے ساتھ شامل ہو گیا اور سالہا سال اُن سے مل کر مسلمانوں کا مقابلہ