خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 136
مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم کرتا رہا۔تو اسلام نے تمدنوں کو بدلا، اسلام نے چھوٹی قوموں کو اونچا کیا اور دُنیا کے لئے اُنہیں مفید اور کارآمد بنایا۔کہاں غستان کا بادشاہ اور کہاں مکہ یا مدینہ کا ایک غریب عرب۔اسلام نے اس غریب کو اونچا کر دیا اور دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کو بھی نیچا کر دیا۔مامورین کی آمد کی غرض بس اللہ تعاذ پس اللہ تعالیٰ کے مامورین جب آتے ہیں تو دُنیا کا نقشہ شخص بدلنے کے لئے آتے ہیں۔وہ صرف افراد کی ہدایت کے لئے نہیں آتے۔اگر افراد کی ہدایت ہی اللہ تعالیٰ کے مدنظر ہوتی تو ایک ایک فرشتہ ہر ایک پر نازل ہوتا اور اُسے خواب کے ذریعہ ہدایت کا راستہ دکھا دیتا لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے مامور بھیجے اور دُنیا کو یہ دعوت دے کر کہ اُس کے ہاتھ پر سب جمع ہو جائیں دُنیا میں ایک شور مچا دیا۔پس خدا تعالیٰ کے انبیاء اس لئے نہیں آتے کہ وہ افراد کو ہدایت دیں بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ دُنیا کا نقشہ بدل دیں۔اس لئے آتے ہیں کہ تنظیم کریں، اس لئے آتے ہیں کہ ایک روحانی فوج تیار کریں اور اُس کے ذریعہ دُنیا کو فتح کریں۔اگر ہم میں سے کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لاتا ہے اور کہتا ہے الْحَمْدُ لِلہ مجھے آپ کی شناخت کی توفیق حاصل ہوئی تو اُسے سمجھنا چاہئے کہ اُس کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ کو مسیح موعود بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔کیا خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ اُسے ہدایت نہیں دے سکتا تھا؟ اور کیا اُس کا دل کھول کر ایسے صحیح راستہ کی طرف اُس کی راہنمائی نہیں کر سکتا تھا؟ آخر ایک کو جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور لاکھوں کروڑوں نفوس کو کفر کی ڈیوڑھی میں لا کر کھڑا کر دیا، قتل و خونریزی تک نوبت پہنچی، فسادات ہوئے اور جھگڑے برپا ہوئے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اگر محض ہدایت دینا مدنظر تھا تو ایک ایک فرشتہ نازل ہوتا اور افراد کو صحیح راستہ بتا دیا جاتا۔ایک آدمی کے ہاتھ سے ہدایت دینے کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے ہاتھ میں سب دُنیا کے ہاتھ رکھنا چاہتا ہے۔اگر تم اس نکتہ کو مدنظر نہیں رکھتے اور تنظیم کا خیال نہیں کرتے اور کہتے ہو الْحَمْدُ لِلَّهِ ہمیں یہ ہدایت حاصل ہو گئی تو غفلت اور شستی کی علامت ہو گی اور گوالفاظ کے لحاظ سے تم الْحَمْدُ لِلَّهِ ہی کہہ رہے ہو گے مگر حالت انا للہ کہنے کی ہوگی کیونکہ ایسے انسان نے انبیاء