خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 133
خطابات شوری جلد دوم ۱۳۳ مجلس مش مشاورت ۱۹۳۷ء ہمارے ملک پر قابض ہو جائے ؟ غرض حکومت کا کلی تغیر ہم پر زیادہ اثر انداز ہوسکتا ہے یا اُس کا جزوی تغيّر ؟ ایک تغیر تو یہ ہے کہ سلیمان کو اس ملک کی عظمت اور بڑائی حاصل ہو جائے ، بادشاہت ہمارے پاس ہی رہے ہم صرف اس کے باجگذار ہو جائیں اور ایک تغیر یہ ہے کہ ہم مارے جائیں اور ملک بھی سلیمان کے قبضہ میں چلا جائے۔ان تمام امور پر غور کر کے وہ جو کچھ کہتی ہے وہ یہ ہے کہ اِنَّ الْمُلُوكَ اِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُ وهَا وَ جعلوا اعزة اخلما اذلة کہ جب کسی ملک میں کوئی نئی بادشاہت آیا کرتی ہے تو جعلوا اعزّة اهلها اذلة وہ اس ملک کے معززین کو ذلیل کر دیا کرتی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتوں میں جب تغیر ہو تو نئی حکومت بڑوں کو چھوٹا اور چھوٹوں کو بڑا کر دیتی ہے۔یہاں یہ مضمون بیان نہیں ہوا کیونکہ اگر اس کے یہی معنی ہوں تو گو بڑے چھوٹے ہو جاویں گے لیکن چھوٹوں کے بڑا بن جانے سے پھر بھی اُس ملک کو فائدہ پہنچے گا اور اُسے کوئی نقصان نہیں رہے گا حالانکہ قرآن کریم کی آیت صرف نقصان اور تباہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔دراصل اس آیت میں ایک غیر قوم کی حکومت کا ذکر ہے۔جب اس قسم کی نئی بادشاہت کا قیام عمل میں آئے تو وہ بڑوں کو ذلیل کر دیتی ہے اور جو پہلے ہی ذلیل ہوں وہ اور بھی زیادہ ذلیل اور بے حیثیت ہو جاتے ہیں۔گویا خارجی قوم کی حکومت نئے حاکم مقرر کرتی ہے، نئے سردار بناتی اور نیا نظام قائم کرتی ہے۔پھر وہ لوگ اپنا قانون جاری کرتے ، اپنے افسروں اور اپنے حکام کا تقرر کرتے اور اپنے ہی نظام کو رائج کرتے ہیں۔جیسے انگریز یہاں آئے تو انہوں نے انگریزوں کو افسر بنایا ، مغل آئے تو اُنہوں نے ساتھیوں کو ترقی دی، پٹھان آئے تو انہوں نے اپنے ہم قوم افراد کو ذمہ داری کے عہدے دیئے۔اسی طرح آرین لوگوں نے حکومت کی تو اُنہوں نے آریوں کو عروج پر پہنچایا اور گونڈ اور بھیل وغیرہ جو کسی زمانہ میں اَعِزَّۃ میں سے تھیں انہیں ذلیل کر دیا۔غرض ہر خارجی بادشاہت دُنیا میں ایک نیا تغیر پیدا کرتی اور پہلے نظام کو بدل کر ایک نیا نظام قائم کرتی ہے۔جب دنیوی بادشاہتوں اور سلطنتوں کا یہ حال ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت دُنیا میں قائم ہو اور وہ ان تغیرات کو عمل میں نہ لاوے بلکہ وہ تو اس سے بھی زیادہ تغیرات پیدا کرتی ہے۔اس لئے کہ جب ایک بادشاہ دوسری