خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 115
خطابات شوریٰ جلد دوئم ۱۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ایک وقت میں روپیہ کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیں اور اس طرح دیوالہ نکل جاتا ہے مگر جاری حساب میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ۹۰ فیصدی مطالبہ نہیں کرتے اور میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ روپیہ عام طور پر لوگ جمع رکھتے ہیں۔قرآن کریم کے ترجمہ کا سوال جب ۱۹۱۵ء میں پیدا ہوا تو مشکل یہ پیش آئی کہ روپیہ کہاں سے آئے۔جماعت اُس وقت تفرقہ میں پھنسی ہوئی تھی اور چندہ میں بہت کمی ہوگئی تھی۔اندازہ یہ تھا کہ ساڑھے تین ہزار کی رقم لگے گی۔میں نے اُس وقت کہا کہ ہم اپنی جائداد فروخت کر کے روپیہ مہیا کر دیتے ہیں مگر جائیداد کا کوئی خریدار نہ ملا اس لئے میں نے اعلان کرایا کہ ہم کچھ زمین بیچنا چاہتے ہیں کیونکہ ترجمہ قرآن کریم کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔اس پر میں نے دیکھا صبح سے شام تک چھ ہزار کے قریب روپیہ جمع ہو گیا۔محلہ دار الفضل کی بنیاد اِسی طرح رکھی گئی اور قادیان کی وُسعت اس طرح شروع ہوئی۔اُس وقت پتہ لگا کہ قادیان کی وسعت میں روک یہی تھی کہ مکان بنانے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی۔پھر میں نے اپنے بھائیوں سے مشورہ کر کے کہا یہ تو ظلم ہے کہ جماعت کے جولوگ یہاں مکان بنانا چاہیں انہیں جگہ نہ ملے ہمیں اپنی زمین فروخت کر دینی چاہئے۔اس طرح مختلف محلوں کی آبادی شروع ہوئی۔اس وقت میں جو تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن دوستوں نے مکانات بنانے کے لئے کچھ روپیہ جمع کیا ہو اور ابھی مکان بنانے میں کچھ دیر ہو وہ اپنا روپیہ امانت کے طور پر انجمن میں جمع کرا دیں۔اب باوجود اس کے کہ بہت تھوڑے لوگوں نے انجمن میں امانت رکھانے کی عادت ڈالی ہے ۷۰ ۸۰ ہزار کے قریب رقم جمع رہتی ہے۔یہ صرف اڑھائی تین سو آدمی ہیں۔پھر کبھی یہ سوال نہیں پیدا ہوا کہ کوئی امانت رکھانے والا اپنی رقم واپس لینے کے لئے آیا ہو اور اُسے روپیہ نہ ملا ہو لیکن جماعت کا بیشتر حصہ ابھی تک ادھر متوجہ نہیں ہوا۔یہ کتنی چھوٹی سی قربانی ہے کہ کسی کے پاس ایک سو روپیہ ہے اور اس لئے ہے کہ مکان بنائے گا، اُس سے وہ مکان نہیں بنا سکتا ، اُسے امانت فنڈ میں جمع کرا دے اور آئندہ بھی جمع کراتا رہے، حتی کہ مکان بنانے کے لئے پوری رقم جمع ہو جائے۔اس طرح روپیہ جمع کرنا نا جائز نہیں ہے بلکہ شریعت کا حکم ہے۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنا مکان بنایا جسے