خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 109

1+9 مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء خطابات شوری جلد دوئم بُھول جائیں جو ہم نے پیدا کیا ہوا ہے۔روحانی گروہ ہمیشہ دوطریقوں میں سے ایک اختیار کیا کرتے ہیں۔یا تو وہ ایک دم بہت بڑی تبدیلی پیدا کرتے ہیں یا پھر آہستہ آہستہ ایک مقام پر لوگوں کو لاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آہستہ آہستہ اس مقام پر لانے کا کام کیا۔مادیات کو نظر انداز کر کے اگر ہم دیکھیں تو ہمارا اصل مقصد دُنیا میں اس روحانیت کو قائم کرنا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے اس کے ساتھ اگر ظاہری سلسلے جاری کئے ہیں مثلاً مدر سے لنگر خانہ ، اخبار وغیرہ ہیں تو یہ دین کا تو حصہ نہیں تو اس طرح کوئی مشکل نہیں رہ جاتی۔اس مقام پر کھڑا ہونے والا بھی ساری مشکلات کو معمولی سمجھے گا۔مگر جو عقدہ ہے اور جس کا حل مشکل ہے وہ یہ ہے کہ کیا وہ وقت آ گیا ہے کہ اس طریق کو اختیار کریں یا ابھی نہیں آیا ؟ اگر وہ وقت آگیا ہے تو کوئی مشکل نہیں رہتی مگر اس کے لئے نہ صرف ان طریقوں کی قربانی کی ضرورت ہے جو ہم نے اختیار کر رکھے ہیں بلکہ بہت سے دوستوں کی قربانی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے لوگوں میں سے ابھی تک وہ مادیت نہیں نکلی جو عام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ایک وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ساری برکت مجھے ماننے میں ہے۔دوسرے وہ جو مولوی صاحب کے متعلق سمجھتے ہیں کہ یہ عالم ہیں ، انہوں نے جو مانا ہے تو صحیح سمجھ کر ہی مانا ہے یا اور عالموں کے دلائل سے مانا ہے۔تیسرے وہ جنہوں نے مسلمانوں کی پراگندہ حالت دیکھی اور سمجھا کہ احمدی جماعت جتھا ہے، اس میں تنظیم ہے، اس لئے شامل ہو گئے کہ اس طرح ترقی کر سکیں گے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تینوں قسیمیں اب بھی موجود ہیں۔گو ان کی شکلیں بدل گئی ہیں یعنی وہ لوگ جو حضرت خلیفہ اول کی وجہ سے داخل احمدیت ہوئے تھے وہ تو اب کم ہو گئے ہیں مگر اب ایسے ہیں جو اوروں کی خاطر داخل ہو گئے۔پھر بعض اس لئے داخل ہو گئے کہ ان کے خاندان کے دوسرے لوگ احمدی ہو گئے۔پھر وہ طبقہ جو سمجھتا تھا کہ اس جماعت کے ذریعہ مسلمانوں کی اصلاح و تنظیم کر سکتے ہیں وہ بھی آتے رہتے ہیں۔وہ اپنی روحانی حالت