خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 103
خطابات شوری جلد دوئم ۱۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کیا ہوا؟ ان میں قدم کیوں پیچھے ہے؟ مگر ان کا جواب یہ ہے کہ غلطی ہوئی اور ان کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔میں اُس مشورہ میں شامل تھا اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری بھی غلطی تھی جیسے دوسرے مشورہ دینے والوں نے غلطی کی۔مگر یا درکھنا چاہئے خدا تعالی بعض اوقات غلطی کرواتا ہے تا کہ بات واضح ہو جائے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نماز میں غلطی کرائی گئی تاکہ یہ مسئلہ واضح ہو جائے کہ جب امام سے غلطی ہو تو کیا کرنا چاہئے۔پس میں سمجھتا ہوں وہ ہماری غلطی تھی ، سوائے اس کے کہ اسے متحرفا لقتال او متحيزا إلى رفقة میں لے آئیں۔مگر میں نے اس بارے میں غور نہیں کیا اور اس وقت میرا یہی خیال ہے کہ ہم نے غلطی کی اور بعض تکلیفیں اس کی وجہ سے اُٹھا ئیں۔ممکن ہے غور کرنے سے میرا یہ خیال بدل جائے مگر اب تک یہی ہے۔پس ایک تو میں دوستوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر ایسا مشورہ دیں کہ فلاں کام بند کر دیا جائے تو ساتھ ہی اس کے وجوہ بھی بتائیں کہ اس کام کو جاری رکھنا سلسلہ کے لئے مضر ہے صرف مالی تنگی کی وجہ سے کسی صورت میں بھی کسی کام کو بند کرنے کے متعلق غور کرنے کے لئے میں تیار نہ ہوں گا۔پس میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بہادر مومن کی طرح ان معاملات پر غور کریں بُزدل دُنیا دار کی طرح غور نہ کریں۔مگر ساتھ ہی میں یہ نصیحت بھی کروں گا کہ دیانت دار مومن کی طرح غور کریں یعنی اگر دیانتداری سے یہ سمجھتے ہوں کہ فلاں تجویز پیش کرنی چاہئے تو اسے ضرور پیش کر دیں۔محض اس وجہ سے کہ میں نے کہہ دیا ہے میں کسی کام کو بند کرنے کی تجویز پر ہمدردانہ غور نہ کروں گا جب تک اُس کے مھر ہونے کے دلائل نہ پیش کئے جائیں، کوئی تجویز پیش کرنے سے باز نہ رہیں۔اگر کسی امر کے متعلق ان کو کامل یقین ہو کہ وہ اسلام کے لئے مفید ہے تو اُسے پیش کر دیں۔پھر میں یہ بھی ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ زیادہ گہرے غور اور فکر سے ان سوالات کو دیکھیں پچھلی سب کمیٹی نے زیادہ گہرے غور سے ان امور کو حل نہیں کیا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اُس وقت اگر ان سب کمیٹیوں میں میں بھی ہوتا تو ان سے اختلاف رکھتا مگر آج جب کہ اس سوال کو یعنی مالی تنگی کے سوال کو حل کرنے کے لئے میں نے اپنے قلب کو پڑھا ، یا یہ کہنا