خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 100

خطابات شوری جلد دوئم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ہمارا کام بہت بڑا ہے اور ہماری ذمہ داری بہت بھاری ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ہم وہ کام نہیں کر سکتے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے پس ہمیں عجز اور انکسار کے ساتھ اور اس یقین اور ایمان کے ساتھ کہ ہمارا خدا نہایت طاقتور ہے اور اُسے ساری طاقتیں ہیں وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور ہم سچے دل کے ساتھ یہ اقرار کریں کہ ہم بے حد کمزور اور نا تواں ہیں نہ کہ منافقانہ طور پر منہ سے تو کہیں کہ ہم کچھ نہیں لیکن ہمارا دل کہتا ہو کہ ہم سب کچھ ہیں۔آؤ! خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہماری کمی کو پورا کر دے، ظلمت کو نور سے بدل دے۔ہماری کمزوری کو طاقت سے تبدیل کر دے، ہماری جہالت کو علم سے بدل دے۔ہماری کو تا ہیاں ہوشیاریوں سے اور ہمارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے، ہمارے دلوں کی سردی کو عشق کی گرمی سے بدل دے اور ان تمام نقائص کو جو خدا تعالیٰ کے نور کے آگے روک بن سکتے ہیں دور کر کے اپنے فرشتے نازل کرے تا کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے اسے خدا تعالیٰ کی فوجیں آسمان سے نازل ہو کر کریں۔“ 66 افتتاحی تقریر تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- جیسا کہ احباب کو معلوم ہے کہ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس خاص اجلاس ہے یعنی پہلے جو سالانہ اجلاس مقرر ہے اُس کے علاوہ ایک خاص مضمون پر غور کرنے کے لئے یہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے اس لئے اس میں صرف اسی مضمون پر غور کیا جائے گا جس کے متعلق پچھلی مجلس شوری میں اعلان کیا گیا تھا۔سوائے اس کے کہ کوئی خاص ضرورت محسوس ہو جو اس وقت ذہن میں نہیں ہے، اُسے اس اجلاس میں زیرغور لایا جا سکتا ہے۔اس اجلاس کا ایجنڈا دوستوں کو پہنچ چکا ہے۔اس میں درج ہے کہ : - (۱) آیا تمام جماعتوں کے چندوں کے بقائے صاف ہو چکے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ (۲) آیا تمام جماعتوں نے چندے با قاعدہ ادا کئے ؟ اگر نہیں تو کیوں؟ (۳) بقالوں کے صاف کرنے اور چندوں کی ادائیگی میں باقاعدگی پیدا کرنے میں کیا کیا وقتیں پیش آئیں؟ (۴) جماعت جس مالی تنگی میں سے گزررہی ہے اس کے کیا کیا علاج ہو سکتے ہیں؟