خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 94
خطابات شوری جلد دوم ۹۴ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء یا د رکھنا چاہئے کہ دوسرا دھگا نہ لگے جب کہ پہلے لگ چکا ہے کہ کچھ لوگوں کو جو احمدیت کی اشاعت اور ترقی میں روک بن رہے تھے، الگ کر دیا۔صدر انجمن سے خطاب پھر میں صدر انجمن کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو خلیفہ کا ہاتھ سمجھے، پورا پورا تعاون کرے۔ایسے لوگوں کو سلسلہ کے کام پر لگایا جائے جو خلیفہ کا پورا ادب اور احترام کرنے والے ہوں ، تعاون کرنے والے ہوں اور جو ایسا نہ ہو اُس کی اصلاح کی جائے اور اگر اصلاح نہ ہو تو انہیں نکال دیا جائے۔اسی طرح جو کارکن ہیں انہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ہتھیار ہیں اُن کا اپنا کوئی وجود نہیں، جب خلافت قائم ہو تو سارے وجود اس میں مدغم ہو جاتے ہیں کیونکہ خلیفہ دماغ ہوتا ہے اور تمام جوارح کا فرض ہوتا ہے کہ دماغ کے تابع چلیں اور اگر کوئی شخص نہیں چل سکتا تو وہ کام چھوڑ دے اور تفرقہ یا شستی سے اس سکیم کو نقصان نہ پہنچائے جو جاری کی گئی ہو۔اسی طرح میں بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ بیرونی جماعتوں سے خطاب جو سکیم ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے اسے قرآن کریم سے پر کچھ کر دیکھ لیں ایک لفظ بھی اس سے باہر نہ ہو گا جو کچھ کہا گیا ہے اسی کی روشنی میں کہا گیا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ میں نہیں بولتا بلکہ بالا ہستی میری زبان سے بولتی ہے۔غور کر کے دیکھ لو کہ جب بھی میری باتوں کو یاد نہیں رکھا گیا یا اُن پر عمل نہیں کیا گیا جماعت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔اگر تبلیغ کے متعلق میری ہدایات کو مدنظر رکھا جاتا اور ریز روفنڈ کی سکیم پر عمل کیا جاتا تو احراری فتنہ نہ اُٹھتا۔میری ان باتوں کو نہ سمجھے تو یہ سزا ملی اور اگر اس سزا پر بھی نہ سمجھو گے تو پھر کوئی اور عذاب نازل ہوگا۔پس یا درکھو ہماری ترقی کے دروازے کھل چکے ہیں جب کہ خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ آنتُمُ الأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يتركُمْ أَعْمَالَكُمْ۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو ان دروازوں میں داخل ہونے کے قابل بنائیں۔میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ تمہیں یاد دلاتے دلاتے بڑی عمر گزرچکی ہے۔اب قطعا سستی اور کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور سب قوت اجتماعی اور انفرادی کو اکٹھا کر کے سلسلہ کے لئے لگا دینا چاہئے اور یہ تہیہ کر لینا چاہئے کہ اب یا تو فتح حاصل کریں گے یا پھر موت۔تا کہ شیطان کا سر کچلا جائے اور ہماری آنکھیں بھی اسلام کی