خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 93

خطابات شوری جلد دوم ۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کرتے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے اس کا نجل اسی کے لئے مضر ہوگا کیونکہ دین کی راہ میں خرچ کرنا تو ایک تجارت کی طرح ہے اور بڑھ بڑھ کر اس سے نفع حاصل ہوتا ہے۔مومن کے لئے قربانی اس دُنیا میں بھی مفید ہوتی ہے ہر مومن کو یہ گر یاد رکھنا چاہئے کہ جتنی قربانیوں کا اُس سے مطالبہ کیا جاتا ہے وہ اس دُنیا میں بھی اس کے لئے مفید ہوتی ہیں اور کوئی قربانی اسلام کی ایسی نہیں جس کا دُنیا میں ہی فائدہ نہ ہو۔مثلاً جہاد کے لئے روپیہ مانگا تو اس سے کتنا عظیم الشان انقلاب مال دینے والوں پر آ گیا۔اُن کی حالت بالکل بدل گئی وہ دُنیا کے حکمران بن گئے۔اسی طرح اب جب ہم تبلیغ پر روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جماعت ترقی کرتی جاتی ہے۔تعلیم و تربیت پر روپیہ صرف کرتے ہیں تو جماعت میں دینی ودنیوی تعلیم پھیلتی جاتی ہے۔غرض کوئی ایک پیسہ بھی ایسا خرچ نہیں ہو رہا جس کے متعلق سمجھیں کہ ضائع ہو گیا یا اس سے کئی گنا بڑھ کر فائدہ نہ ہو رہا ہو۔فرمایاد الله الغني وانْتُمُ الْفُقَرَاء - یاد رکھو تم فقیر ہو اور اللہ غنی ہے۔اور جب غنی فقیر سے مانگے تو بڑھا کر دینے کے لئے ہی مانگے گا۔وان تتولّوا يَسْتَبْدِلَ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثمَّ لَا يَكُونُوا آمَثالَكُمْ۔اور یاد رکھو اگر تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو اللہ ایک اور قوم کو کھڑا کر دے گا جو تمہارے جیسی نہ ہوگی بلکہ تم سے بہتر ہوگی کیونکہ خدا تعالیٰ جب کسی چیز کو بدلتا ہے تو اس سے بہتر لاتا ہے۔یاد رکھو دوسرا دھگا نہ لگے جماعت کے ہر فرد کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں اور اس کے دین کی خدمت کے لئے کام کرتے ہیں ان کو بہتر بدلا ملنے کی امید ہے لیکن جو اس میں روک بنتے ہیں خدا تعالیٰ پہلے ان کو تباہ کرے گا اور پھر دشمن پر تباہی لائے گا۔یستبدِل قَوْمًا غَيْرَكُمْ کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالی ساری قوم کو تباہ کر دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ جو کمزور اور سکتے ہوں ان کو نکالتا جاتا ہے اور مخلصین اور کام کرنے والوں کو داخل کرتا جاتا ہے۔جیسا کہ غیر مبائعین کے متعلق ہوا ، اُن کو نکال کر خدا تعالیٰ نے اُن سے ہر طرح سے بہتر داخل کر دیئے۔اب جماعت کو