خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page ix

(v) خدا کے سامنے پیش کرنی ہے اور خدا کی نظر اگلے زمانوں پر بھی ہے اس لئے مجھے یہ فکر ہوتی ہے کہ آج جو کام کر رہے ہیں یہ آئندہ زمانہ کے لئے بنیاد ہو۔۔۔۔اگر آج ہم بنیاد قائم نہ کریں تو وہ کس پر عمارت بنائیں گے۔۔۔پیس مجھے آئندہ کی فکر ہے اور میری نظر آئندہ پر ہے کہ ہم آئندہ کے لئے بنیادیں رکھیں۔۔۔۔چنانچہ وہ زمانہ آئیگا جب خدا ثابت کر دے گا کہ اس جماعت کے لئے یہ کام بنیادی پتھر ہیں“۔خطابات شورای جلد اول صفحه (۲۲) مجلس شورای کے لئے جمع ہونے کی غرض بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۲۴ء کی مجلس شورای سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایا : آج آپ لوگ اسلام اور قرآن کریم کے احکام کی تعمیل میں اس غرض کے لئے اس جگہ جمع ہوئے ہیں کہ بعض اہم دینی امور میں خلیفہ وقت کو مشورہ دیں اور اس طرح تعاون و تناصر کر کے اس کام میں شریک ہو کر خدا کے فضل اور نصر توں کو حاصل کریں۔جیسا کہ میں نے بارہا اعلان کیا ہے اس قسم کی مجلس مشاورت اسلامی احکام کے ماتحت ہے۔اس لئے کسی صورت اور کسی حالت میں بھی اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہم جو اکٹھے ہوئے ہیں تو محض اس لئے کہ خدا کی رضاء کے ماتحت اور اُس کی منشاء کے ماتحت اسلام کی خدمت کے لئے ایسے امور پر غور کریں کہ جن کا نتیجہ اسلام کی مدد، نصرت، تائید اور ترقی ہو۔اسی لئے یہاں ہمارا جمع ہونا دینی کام اور عبادت ہے۔۔۔میں اُمید کرتا ہوں کہ جو دوست اللہ کی مرضی کے لئے یہاں آئے ہیں وہ اس بات کو مد نظر رکھیں گے اور کوئی بات انشارتا بھی ایسی نہ کریں گے جو خدا کی مرضی کے خلاف ہو اور جس میں حسد اور بغض کا شائبہ ہو۔وہ خدا کے لئے مشورہ دیں گے، خدا کے لئے کسی اور کی تائید کریں گے اور خدا کے لئے کسی بات کی تردید کریں گے۔“ (خطابات شورای جلد اول صفحه: ۸۲)